وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسترد ہونے پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایک بات توہمیں نظر آرہی ہے کہ رولنگ غلط ہوئی ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے دوران اسمبلیاں تحلیل کرنا آئین کے منافی ہے، یہ مفاد عامہ کا کیس ہے ، رولنگ کو ختم کرکے دیکھیں گے آگے کس طرح چلنا ہے۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کیس کی سماعت جاری ہے جس میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل بھی بینچ میں شامل ہیں۔
دوران سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آرٹیکل55 کے مطابق اسمبلی میں تمام فیصلےہاؤس میں موجود اراکین کی اکثریت سے ہوں گے، ایک بات توہمیں نظر آرہی ہے اور وہ یہ کہ رولنگ غلط ہے، بتائیں اگلا مرحلہ کیا ہوگا، اسمبلی تحلیل نہ ہوتی تو ممکن تھا اپوزیشن کچھ کرلیتی، اصل مسئلہ اسمبلی تحلیل ہونے سے پیدا ہوا، تحریک عدم اعتماد کے دوران اسمبلیاں تحلیل نہیں کی جاسکتیں، تحریک عدم اعتماد کے دوران اسمبلیاں تحلیل کرنا آئین کے منافی ہے۔
اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ازخود نوٹس پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسترد ہونے پر ازخود نوٹس کی سماعت کا فیصلہ آج شام ساڑھے 7 بجے فیصلہ سنایا جائے گا۔