“اگر میں کبھی کسی سے ایک گلاس پانی کا کہہ دوں تو جواب ملتا ہے کہ ہمارے گھر میں تو گلاس ہی نہیں ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ ہمارے پاس آپ والا گلاس نہیں ہے۔ مجھے بڑی ہنسی آتی ہے کہ یہ میرا والا گلاس کون سا ہوتا ہے۔'
یہ الفاظ ہیں44 سالہ شفیق مسیح کے جو مسیحی برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی پچھلی کئی نسلیں گٹر صاف کرنے کا کام کرتی چلی آرہی ہیں۔ شفیق مسیح کا کہنا ہے کہ اگر چہ وہ کام تو صفائی کا کرتے ہیں لیکن ان کے ساتھ لوگوں کا رویہ کافی خراب ہوتا ہے جیسے گندگی کے ذمہ دار وہ خود ہیں۔
کیا آپ بھی صفائی کرنے والوں کو گندے گلاس میں پانی دیتے ہیں؟
آخر ایسا کیوں ہے؟ یقیناً آپ کے گھر می بھی کبھی نہ کبھی کسی جمعدار یا صفائی کرنے والے نے پانی یا کھانا مانگا ہوگا بہت ممکن ہے کہ آپ کے گھر میں بھی ایسی صورت حال کے لئے مخصوص گلاس علیحدہ رکھا ہو جس میں گھر کے افراد پانی نہ پیتے ہوں اور وہ گلاس صرف جمعدار یا ماسیوں کے استعمال کے لئے رکھا گیا ہو۔ اس آرٹیکل میں ہم بات کریں گے ایسے افراد سے جو گناہ گار نہ ہوتے ہوئے بھی معاشرے کی ناپسندیدگی جھیلنے پر مجبور ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے مشہور صحافی حامد میر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ ہر ایک ٹوئٹ شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ “ہمارے گلی محلوں اور سڑکوں پر صفائی کرنے والے یہ سینیٹری ورکرز قابل عزت اور لائق تحسین ہیں کم از کم ان کی زبانوں سے خارج ہونے والی گندگی سوشل میڈیا پر تعفن تو نہیں پھیلاتی“
صفائی والا ہوں چوڑا نہیں
جس ٹوئٹ کو حامد شئیر کررہے تھے اس میں ایک تصویر میں موجود شخص ہاتھ میں ایسا پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھا جس میں لکھا تھا “میں صفائی والا ہوں چوڑا نہیں“ سوچنے والی بات ہے کہ جو شخص ہمارا پھیلایا ہوا کچرا صاف کر رہا ہے ہم اسے برے اور ایسے ناموں سے کیوں پکار رہے ہیں جو اس کا دل دکھاتے ہیں اور معاشرے میں اس کی کم حیثیت سے ان کو پکارتے ہیں۔
بیٹے نے لڈو مانگا تو خریدنے کے پیسے نہیں تھے
شفیق مسیح اپنی غربت کا قصہ سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک بار میرے بیٹے نے لڈو کھانے کی فرمائش کی تو میرے پاس دس روپے نہیں تھے کہ اس کے لئے لڈو خریدوں لیکن اب میں فخر کرتا ہوں کہ میں گٹر صاف کرتا ہوں، میرے گھر میں کھانا ہے، تن پر کپڑا ہے، میرا بیٹا پڑھ رہا ہے۔ میں اپنے بیٹے کو بڑھانے کے لئے گٹر میں اترتا ہوں۔
معاشرہ ہمیں حقیر سمجھتا ہے
شفیق مسیح کا کہنا ہے کہ وہ اور ان جیسے بہت سے خاکروب اپنی عزت نفس قربان کر کے اور زہریلی گیسوں میں اپنی جان داؤ پر لگا کر صفائی کرتے ہیں اس کے باوجود لوگ ان کی عزت نہیں کرتے بلکہ ان کو ہمیشہ کم حیثیت اور گندا ہی سمجھا جاتا ہے۔