دنیا میں ایسے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں جو کہ توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔ لیکن ان واقعات کے پیچھے چھپی وجوہات ایسی ہوتی ہیں جو کہ سب کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
درخت میں رہنے والا شخص:
امریکہ سے تعلق رکھنے والا مک ڈوج امریکی فوج میں ملازمت کرتا تھا، لیکن آج سے 33 سال پہلے مک نے دنیا جہاں کی رنگینیوں کو خیر باد کہہ دیا اور واشنگٹن کے جنگلات میں رہائش اختیار کر لی۔
تقریبا 70 سال کی عمر میں مک تنہا درختوں اور جنگلات کی خاموشی کے بیچ راتیں گزارتا ہے۔ لیکن ان سب میں وہ مجبور نہیں ہے بلکہ اسے اس طرح قدرت کے قریب رہ کر دنیا کی پریشانیوں سے الگ زندگی گزارنے میں سکون ملتا ہے۔
مک جنگلات میں جانے سے پہلے امریکی بحری فوج میں 9 سے 5 ملازمت کرتا تھا مگر ایڈونچر کے شوق نے اسے مجبور کر دیا کہ وہ جنگلات کی طرف آ جائے۔
جنگلات میں آنے کے بعد مک نے فیصلہ کیا کہ وہ کبھی جوتے نہیں پہنے گا اور جنگلی طور پر ہی زندگی گزر بسر کرے گا۔ حتٰی کہ یہ بات بھی حیرت زدہ ہے کہ وہ درخت کے اندر رہائش اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایک بڑے سے درخت کے اندر مک نہ صرف رہتا ہے بلکہ نیند بھی یہیں پوری کرتا ہے۔
جنگل میں رہنے والا نوجوان:
زینزیمان ایلی کا تعلق افریقی ملک روانڈا سے ہے۔25 سالہ نوجوان دراصل اس لیے باقی تمام لوگوں سے مختلف ہے کہ زینزیمان ایک ایسی بیماری کا شکار ہے جس میں انسانی سر چھوٹا ہوتا ہے اور انسان بول بھی نہیں سکتا ہے۔
بیماری کا شکار یہ نوجوان اس لیے مشکلا کا شکار ہو جاتا ہے جب اس کے گاؤں والے اسے الگ دکھنے پر چڑاتے ہیں۔ زینزیمان اپنا زیادہ تر وقت جنگل میں ہی گزارتا ہے۔
چونکہ زینزیمان کی بیماری کی وجہ سے وہ تعلیم حاصل نہ کر سکا، یہی وجہ ہے کہ اسے باقی لوگوں کی طرح اچھا سلوک کرنا نہیں آتا ہے، البتہ وہ اپنی والدہ کی ہر بات کو سمجھ جاتا ہے۔
جنگل میں زندگی گزارنے والے زینزیمان کی غذا بھی گھاس پھوس ہی ہے۔ جنگلات میں رہنے کی وجہ سے ایک اہم صلاحیت جو اسے باقی سب میں مفنرد بناتی ہے وہ ہے درختوں پر تیزی سے چڑھ جانا۔
جانوروں کے ساتھ رہنے والا شخص:
برازیل کے ایمازون جنگل میں رہنے والے اس شخص کا نام تو کوئی نہیں جانتا البتہ 1996 میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ یہ شخص ایمازون کے ایک قبیلے کا باشندہ ہے۔ ایمازون کے جنگلات میں ایسے کئی قبیلے آباد ہیں جو کہ آج کی دنیا سے ناواقف ہیں اور اس دور میں بھی پتھر کی زندگی گزار رہے ہیں۔
دراصل اس شخص کے قبیلے پر دوسرے قبیلے نے حملہ کر دیا تھا جس کے بعد اس باشندے کے قبیلے کے تمام افراد مارے گئے، لیکن یہ بچ گیا تھا۔
یہ شخص اس حد تک خطرناک ہے کہ برازیل کی حکومت نے اس شخص کے آس پاس جانے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ جبکہ جنگل میں جانوروں اور پتوں کو ہی غذا کے طور پر استعمال کرنے والا یہ شخص سب کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔