رمضان المبارک کا مہینہ اپنے آخری عشرے میں داخل ہو چکا ہے اس آخری عشرے میں پانچ راتیں ایسی ہیں جس میں سے شبِ قدر یا لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کا حکم ربّی مسلمانوں کو دیا گیا ، لیلۃ القدر کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہے کہ یہ ہزار مہینوں سے بہتر رات ہے۔اس کے بارے میں دانستہ بتایا نہیں گیا بلکہ حکم ہے کہ اس کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے تلاش کرو۔ اس رات کی فضیلت اور ثواب کے بارے اتنا زیادہ آیا ہے کہ یہ ہم مسلمانوں کی زندگی کی اہم ترین راتوں میں سے ایک ہے۔ اور جس نے اس کو پالیا وہ دنیا اور آخرت کی خیر پا گیا۔
’’"بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے۔ اور آپ کیا سمجھے ہیں (کہ) شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب کے حکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اترتے ہیں۔ یہ (رات) طلوعِ فجر تک (سراسر) سلامتی ہے۔" القدر، 97: 1-5
’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ماہ رمضان آیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جو مہینہ تم پر آ گیا ہے، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے، جو شخص اس رات کی خیرات و برکات سے محروم کر دیا گیا وہ گویا تمام خیر سے محروم کر دیا گیا اور اس رات کی خیرات و برکات سے محروم صرف وہی شخص کیا جاتا ہے جو (اصلاً ہر خیر سے) محروم ہو۔‘‘ اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
اس رات کے بارے میں حضورﷺ نے فرمایا
"اس رات کی خیر سے جو محروم رہ گیا تووہ تو محروم ہی رہ گیا اس سے بڑا دنیا میں کوئی محروم نہیں جس کو لیلۃ القدر کی محرومی ہو گئی"
لیلۃ القدر کی نشانیاں:
لیلۃ القدر کی ایک نشانی یہ ہے کہ یہ رات بڑی پرسکون ہوتی ہے، اس میں شوروشغف نہیں ہوتا۔
لیلۃ القدر کی دوسری نشانی یہ ہے کہ وہ دوسری راتوں کی نسبت ٹھنڈی رات ہوتی ہے۔
لیلۃ القدر کی تیسری نشانی یہ ہے کہ یہ رات روشن ہوتی ہے اس میں ملائکہ کا نزول ہوتا ہے جس کی وجہ سے زمین پر روشنی ہوتی ہے۔
لیلۃ القدر کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس رات میں نہ سخت گرمی ہوتی ہے اور نہ ہی یہ زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہے۔بلکہ اس میں کھلی فضا ہوتی ہے۔
لیلۃ القدر کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس رات جو قیام کرتا ہے اس رات اسے جو لذت محسوس ہوتی ہے وہ دوسری راتوں کے قیام میں محسوس نہیں ہوتی۔
لیلۃ القدر کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس میں اللہ اپنے کچھ نیک بندوں کو خواب کے ذریعے دکھا دیتا ہے کہ شبِ قدر کون سی ہے۔
لیلۃ القدر کی ایک نشانی یہ ہے کہ اگلے دن جب سورج نکلتا ہے تو اس میں تیزی نہیں ہوتی وہ اپنے جوبن پر نہیں ہوتا یا یوں کہہ لیں کہ اس کی شعاعیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ان میں وہ تپش نہیں ہوتی جو کہ اور دنوں میں ہوتی ہے۔