گزشتہ روز مسجد نبویﷺ میں ایک بہت ہی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ۔ ن لیگ کی قیادت کو دیکھ کر وہاں موجود لوگوں نے چورچور کی نعرے بازی کر کے ماحول سر پہ اٹھا لیا جس کی وجہ سے مسجدِ نبوی کے تقدس کا نہ تو خیال کیا گیا اور نہ ہی اس ادب کو ملحوظ رکھا گیا۔ جبکہ قرآن میں بھی اس حوالےسے فرمایا گیا کہ اے اہل ایمان! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو(الحجرات -آیت۲ )
لوگ تاج محل کو محبت کی علامت قرار دیتے ہیں، مگر یقین جانیں کہ عثمانی دور میں مسجد نبویﷺ کی تعمیر، تعمیرات کی دنیا میں محبت اور عقیدت کی معراج ہے۔ ذرا تفصیل پڑھئے اور اپنے دلوں کو عشق نبیﷺ سے منور کریں۔
ترکوں کے دور حکومت میں جب سلطان عبد الحمیدؒ نے جب مسجد نبویؐ کی تعمیر کا ارادہ کیا تو انہوں نے اپنی وسیع و عریض ریاست میں اعلان کیا کہ انہیں عمارت سازی سے متعلق فنون کے ماہرین درکار ہیں۔ اعلان کرنے کی دیر تھی کہ ہر علم کے مانے ہوئے لوگوں نے اپنی خدمات پیش کیں۔ سلطان کے حکم سے استنبول کے باہر ایک شہر بسایا گیا، جس میں اطراف عالم سے آنے والے ان ماہرین کو الگ الگ محلوں میں بسایا گیا۔ اس کے بعد عقیدت اور حیرت کا ایسا باب شروع ہوا، جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں ملنا محال ہے۔
خلیفہ وقت جو دنیا کا سب سے بڑا فرمانروا تھا، شہر میں آیا اور ہر شعبے کے ماہر کو تاکید کی کہ اپنے ذہین ترین بچے کو اپنا فن اس طرح سکھائے کہ اسے یکتا و بے مثال کر دے۔ اس اثنا میں ترک حکومت اس بچے کو حافظ قرآن اور شہسوار بنائے گی۔ دنیا کی تاریخ کا یہ عجیب و غریب منصوبہ کئی سال جاری رہا۔ 25 سال بعد نوجوانوں کی ایسی جماعت تیار ہوئی، جو نہ صرف اپنے شعبے میں یکتائے روزگار تھے، بلکہ ہر شخص حافظ قرآن اور با عمل مسلمان بھی تھا۔ یہ لگ بھگ 500 لوگ تھے۔
اسی دوران ترکوں نے پتھروں کی نئی کانیں دریافت کیں۔ جنگلوں سے لکڑیاں کٹوائیں۔ تختے حاصل کئے گئے اور شیشے کا سامان بہم پہنچایا گیا۔ یہ سارا سامان نبی کریمؐ کے مقدس شہر مدینہ منورہ پہنچایا گیا تو ادب کا یہ عالم تھا کہ اسے رکھنے کے لئے مدینہ سے دور ایک بستی بسائی گئی تاکہ شور سے مدینہ کا ماحول خراب نہ ہو۔ وہاں سے پتھروں کو تراش کر اور لکڑیوں کو تیار کر کے مسجد نبویؐ لایا جاتا۔ لیکن نبی اکرمؐ کے ادب کی وجہ سے اگر کسی پتھر میں ترمیم کی ضرورت پڑتی تو اسے واپس اسی بستی بھیجا جاتا۔

ماہرین کو حکم تھا کہ ہر شخص کام کے دوران با وضو رہے اور درود شریف اور تلاوت قرآن میں مشغول رہے۔ حجرہ مبارک کی جالیوں کو کپڑے سے لپیٹ دیا گیا کہ گرد غبار اندر روضہ پاک میں نہ جائے۔ ستون لگائے گئے کہ ریاض الجنۃ اور روضہ پاک پر مٹی نہ گرے۔ یہ کام پندرہ سال تک چلتا رہا اور تاریخ عالم گواہ ہے کہ ایسی محبت اور ایسی عقیدت سے کوئی تعمیر نہ کبھی پہلے ہوئی اور نہ کبھی بعد میں ہوسکتی ہے۔ خلیفہ سلطان عبد المجید نے 1293 میٹر مسجد نبویؐ میں توسیع کرائی، جس کے بعد مسجد کا رقبہ 10328 مربع میٹر تک جا پہنچا۔ یہ توسیع 1265ھ میں کرائی گئی تھی۔
مسجد نبویؐ کی چودہ صدیوں میں چودہ بار تعمیر و توسیع ہوئی ہے۔ العربیہ کے مطابق نبی اکرمؐ اور صحابہؓ نے مسجد نبویؐ کی بنیاد 1050 مربع میٹر جگہ سے رکھی۔ مسجد کی عمارت کچی اینٹوں، گارے، کھجور کے تنوں اور پتوں سے بنائی گئی۔ ایک ہزار پچاس مربع میٹر سے شروع ہونے والی مسجد نبوی آج پانچ لاکھ مربع میٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔ مسجد نبوی کی پہلی توسیع خود نبی اکرمؐ کے زمانے میں کی گئی۔ 1050 مربع میٹر مسجد میں مزید 1425 مربع میٹر کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد مسجد کی جگہ 2500 مربع میٹر ہوگئی۔ مسجد نبوی کے قیام کے بعد آج تک اس کی توسیع میں 300 گنا اضافہ کیا گیا ہے ۔