مشہور شخصیات اکثر سوشل میڈیا پر دلچسپ انداز کی بدولت سب میں توجہ حاصل کر لیتی ہیں، عامر لیاقت حسین کا شمار بھی انہی چند شخصیات میں ہوتا ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ مشہور اینکر عامر لیاقت حسین سے متعلق دلچسپ معلومات فراہم کریں گے۔
ایک وقت تھا جب عامر لیاقت حسین کے لیے ہر چینل منتیں کرتا تھا، اور ان کے نخرے تک اٹھاتا تھا آج وہی چینل کسی دوسرے اینکر کو موقع دے رہا ہے۔
باصلاحیت، سلجھے ہوئے اور بہترین ڈیبیٹر عامر لیاقت حسین کے بارے میں کہا جاتا ہے ان کے پاس الفاظ کا زخیرہ ہے جس سے یہ سامنے والے کی ہر بات کو بخوبی کاؤنٹر کرنا جانتے ہیں۔
رمضان ٹرانسمیشنز کے بانی سمجھے جانے والے عامر لیاقت حسین نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جو گھرانہ علم اور ادب کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے۔
والد شیخ لیاقت حسین کا شمار ان شخصیات میں ہوتا تھا جو کہ کراچی کی سیاست اور معاشرے کی پُر اثر شخصیات میں ہوتا تھا۔ نڈر انداز اور دلیرانہ موقف نے شیخ لیاقت حسین کی شہرت میں چار چاند لگا دیے تھے، والد قومی اسمبلی کے ممبر بھی رہ چکے تھے جبکہ شیخ لیاقت حسین ایم کیو ایم کے اہم رہنماؤں میں سے ایک تھے۔
دوسری جانب عامر لیاقت حسین کی والدہ محمودہ سلطانہ تھیں جو کہ ہر ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑی رہنے والی خاتون تھیں، فاطمہ جناح کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے والی محمودہ سلطانہ نے اپنے ہر قدم پر نہ صرف فاطمہ جناح کا ساتھ دیا بلکہ ریاستی جبر کو بھی برداشت کیا۔
اس تصویر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ عامر لیاقت کی والدہ پاکستانی فوجی کے ہاتھ سے مائیک لے کر مظاہرین سے خطاب کر رہی ہیں، بھٹو کے خلاف تحریک ہو یا پھر مارشل لاء کا زمانہ محمودہ سلطانہ نے بچوں کو بھی سنبھالا اور پاکستان کی خاطر سڑکوں پر اپنی آواز بھی بلند کی۔
عامر اپنی والدہ سے بے حد پیار کرتے ہیں، چاہے کم سنی کا دور ہو یا پھر لڑکپن کا زمانہ، عامر نے والدہ کی نصیحت کو ہاتھوں سے جانے نہیں دیا لیکن دوسری جانب عامر نے اپنے والدین کی فرمانبرداری میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
عامر لیاقت کے والدین کے علاوہ ان کا ایک بھائی بھی تھا، جس کا نام تھا عمران لیاقت حسین۔ عمران لیاقت عامر لیاقت حسین کا چھوٹا بھائی تھا، عامر کی پہچان پاکستان میں ان کی حب الوطنی، مثبت سوچ اور ڈیبیٹنگ سے بنی، دوسری جانب ان کے بھائی عمران لیاقت متنازع خیالات کا حامی اور میڈیا سے اوجھل تھا۔
عامر لیاقت حسین کے اپنے چھوٹے بھائی سے مذہبی اور اخلاقی خیالات پر اختلاف تھا، عامر لیاقت کی زندگی میں عروج اس وقت آیا جب انہوں نے ایم کیو ایم اور سیاست کو چھوڑ کر ٹیلی ویژن انڈسٹری کو جوائن کیا، جہاں وہ عالم آن لائن اور رمضان کے حوالے سے خصوصی پروگرام کیا کرتے تھے، سابقہ اہلیہ بشریٰ اقبال بھی اس حوالے سے شوہر کا ساتھ دیتی تھیں۔
عامر کئی بار اپنی بیٹی دعا عامر کو بھی رمضان ٹرانسمیشن میں لایا کرتے تھے، اور پھر انعام گھر کے نام سے بھی پروگرام کیا جس میں نچلے طبقے اور ناظرین کی ایک بڑی تعداد نے عامر لیاقت حسین کو دیکھنا شروع کر دیا۔ یتیم بچوں کو باپ کا سایہ دلانا ہو، گمشدہ کو ان کے پیاروں سے ملوانا اور مجبور افراد کی مدد کرنا ہو، عامر لیاقت نے ان کاموں کو بھی میڈیا کا حصہ بنایا جس سے عوام کی بھی مدد ہوئی۔
لیکن اب عامر لیاقت حسین کی صورتحال یہ ہے کہ عامر لیاقت حسین نے نہ رمضان ٹرانسمیشن کی، نہ ہی سیاست میں وہ اہمیت مل رہی ہے۔ لیکن سوشل میڈیا صارفین دانیہ شاہ پر اعتماد کرنے میں جھجھک محسوس کر رہے ہیں، کیونکہ صارفین کا ماننا ہے کہ اگر کوئی خاتون اپنے شوہر کی غیر اخلاقی ویڈیوز اپلوڈ کر سکتی ہے اور خلع میں حق مہر کا تقاضہ کر سکتی ہے تو اس پر کیسے یقین کیا جا سکتا ہے۔