ہمارا مقصد صرف گلی بنانا نہیں بلکہ ہم اسے پورے ملک کے لئے ایک مثال بنانا چاہتے ہیں یہاں کے علاقہ مکینوں کا یہ کہنا ہے۔ کراچی کی زبوں حالی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، اس شہر کا کوئی والی وارث نہیں جبکہ یہ شہر پورے ملک میں سب سے زیادہ ریوینیو جنریٹ کرتا ہے۔ اس کے باوجود اس کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس شہر کے دعویداروں نے بھی اس کے ساتھ ظلم ہی کیا جبکہ یہاں کے لوگ، یہاں کی عوام بڑے دل والے لوگ ہیں یہاں سے پوری دنیا میں سب سے زیادہ فلاحی کاموں کے لئے عطیات دئیے جاتے ہیں ، یہاں رمضان میں ہزاروں لوگوں کو سحری اور ہزاروں لوگوں کو مفت افطاری کروائی جاتی ہے۔ یہ دل والوں کا شہر ہے اس نے پورے پاکستان سے تلاشِ معاش میں آنے والے لوگوں کو کھلے دل سے اپنے دامن میں پناہ دی ہے، لیکن اس شہر کا کوئی پرسانِ حال نہیں اس کی گلیاں کچرا خانہ بن چکی ہیں ، یہاں کے لوگوں کو ضرورت کا پانی تک میسر نہیں ، گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی نے عوام کو بےبس کر دیا ہے، لیکن اسی بے بسی میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا ریاستِ مدینہ ماڈل اسٹریٹ کا قیام ہے جو کہ اس شہر کے مکینوں نے اسی صورتحال سے تنگ آکر اپنی مدد آپ کے تحت اپنے علاقے کو بہتر بنانے کا بیڑہ اٹھایا۔

ریاستِ مدینہ ماڈل اسٹریٹ کا قیام
کورنگی کا علاقہ سیوریج کے بدترین نظام کی وجہ سے مشہور ہے، ہر گھر سے گٹر کا پانی ،بدبو، کچرے کے ڈھیراس علاقے کی پہچان تھے۔ یہاں کے مکینوں نے پہلے اربابِ اختیارسے شکایات کیں لیکن کوئی سنوائی نہ ہوئی، چنانچہ یہاں کے مکینوں میں سے کچھ لوگ اٹھےاورانہوں نے لوگوں کو سمجھایا کہ ان کو اپنی زندگیوں میں بدلاؤ لانے کے لئےانہیں خود کوشش کرنی ہو گی،ورنہ یہاں کے لوگ اس بات کو مان چکے تھے کہ ہمیں اسی طرح اسی حال میں زندگی گزارنی ہو گی۔ لیکن ان ہی میں سے کچھ لوگ آگے بڑھے اور انہوں نے اپنے لوگوں کی ذہن سازی کرنی شروع کی کہ ان کو اپنے لئے خود کچھ کرنا ہے چنانچہ اس کے لئے انہوں نے اپنے علاقے کے ایم پی اے سے بات کی ان کو بلایا، یہاں کا سیوریج سسٹم ،اور سڑک کی کارپٹنگ کروائی، اس کے بعد لوگوں سے پیسے جمع کر کے گھروں کے باہر رنگ و روغن کروایا، اس کے بعد گھروں کے باہر پودے لگوائے، ہر گھر کے باہر رکھے پودے پر اس گھر کے بچے کا نام لکھا جس کا سب سے اچھا پودا ہو تا ہے اس کو انعام دیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ محلے کے لوگوں میں سے ہی فجرفائٹرزمقررکئے ہیں جو لوگوں کو فجر کی نماز کے لئے لے کر جاتے ہیں نماز کے بعد ایکسرسائز ہوتی ہے، مہینے میں ایک دفعہ پورا محلہ اجتماعی کھانا ساتھ کھاتا ہے جس میں سب اپنے اپنے گھروں سے ایک ایک ڈش لے کر آتے ہیں، اس کے ساتھ فکری نشست کرتے ہیں جس میں لوگوں کونبی پاک کی تعلیم سےروشناس کرایا جاتاہے۔ اس کے ساتھ خواتین کے لئے بھی روزانہ کا ایک گھنٹہ مختص کیا ہوا ہے کہ جس میں وہ اپنے گھروں سے باہر آتی ہیں اس وقت گلی کو پیک کردیا جاتا ہے پردے کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے اس ایک گھنٹے میں وہ گیمز بھی کھیلتی ہیں ان کے لئے لائبریری کا بھی انتظام ہے، اور دوسری ایکٹیویٹیز بھی ہیں۔ اسی طرح بچوں کے لئے انگریزی اور سائنس کی کلاسز کا بھی اہتمام ہے ۔اس کے ساتھ کسی بھی قسم کی میٹنگ کے لئے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کر کے سب کو جمع کر لیا جاتا ہے اور پھرمشاورت سے مختلف فیصلے کیے جاتے ہیں۔ اب یہاں کے لوگ بہت خوش ہیں اور بڑھ چڑھ کر ہر سرگرمی میں حصہ بھی لیتے ہیں اور اپنی گلی کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔یہاں کا بچہ بچہ اپنی گلی کے لئے کام کرتا ہے۔ یہاں کے مکینوں کا یہ کہنا ہے کہ ہمارا یہ پیغام پورے پاکستان کے لوگوں کے لئے ہے کہ اپنے ملک، اپنے علاقے، اپنے شہر کے لئے خود آگے بڑھیں اور اس کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔