روح سے بات کرتے ہوئے سفید سایہ آ گیا اور پھر ۔۔ جب سائنسدان نے مشین کی مدد سے انسان کی روح سے بات کرنے کی کوشش کی تو کیا ہوا؟

image

سائنس انسان کو حیران کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ہے، چاہے پھر وہ انسان کی پیدائش سے متلعق معلومات ہو یا پھر موت کے بعد مرحوم انسان سے گفتگو، سائنس نے ہر لحاظ سے انسان کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ اسی حوالے سے بتائیں گے۔

سائنس کی جانب سے ایک ایسا تجربہ کیا گیا تھا جس نے سب کو حیرت میں ڈال دیا تھا، موت کے بعد انسان سے بات چیت کرنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ہے لیکن ایک ایسے ہی شخص نے اپنی مرحوم بہن سے بات کی، اگرچہ یہ ایک فلمی سین تھا لیکن مستقبل کی پیشن گوئی ہو سکتی ہے۔

ہف پوسٹ میں تھامس ایڈیسن کی ایک ایسی ہی تحقیق سے متعلق رپورٹ پبلش ہوئی تھی جس میں اسی مشین سے متعلق بتایا گیا جس سے متاثر ہو کر بعدازاں فلم بنائی گئی، تھامس ایڈیسن کے مطابق وہ اس بات کا دعویٰ ضرور کر سکتے ہیں کہ کسی دوسری دنیا کی مخلوق سے رابطہ ممکن ہے، جبکہ یہاں دوسری دنیا کی مخلوق میں روحیں، جنات شامل ہیں۔

سائنسدانوں کا اس حوالے سے خیال تھا کہ وہ ایسی مشین بنالیں گے جو کہ مرے ہوئے لوگوں سے بات چیت کے لیے استعمال کی جا سکے۔ اسی حوالے سے ایک فلم بھی بنائی گئی تھی جس کا نام تھا آئنسٹائن گاڈ ماڈل، جس میں کریک لیون نامی طالب علم کے ساتھ یہ تجربہ کیا گیا تھا، جس کی بہن کا چند ماہ قبل انتقال ہوا اور وہ اپنی بہن سے بات چیت کرنا چاہتا تھا۔ ڈاکٹر کول نامی پروفیسر نے کریک کی ملاقات بہن سے کرانے کی کوشش کی۔

اور پھر پروفیسر نے کریک کو ہدایت کی کہ مشین پر بیٹھ کر آنکھوں پر ایک چشمہ پہنیں، اور انہیں ایک انجیکشن لگایا جاتا ہے، ساتھ ہی کہا کہ آپ کے پاس ایک ٹیلی فون رکھا ہے اسے اس وقت تک نہ اٹھائیں جب تک یہ خود بجنا شروع نہ ہو۔

اگر اس مقام پر کوئی روح یا مخلوق ہوئی تو وہ اس ٹیلی فون کے ذریعے بات کرنے کی کوشش کرے گی، الیکٹرامیگنیٹک فورس اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

جب تجربہ شروع ہوتا ہے تو سب سے پہلے کریک کو الیکٹرامیگنیٹک فورس کے ذریعے کرنٹ دیا جاتا ہے جس کے بعد کریک کو کچھ آوازیں سننا شروع ہوتی ہیں جیسے کہ دروازے پر دستک کی، یا پھر ایسی آواز جیسے کوئی کریک سے بات کرنا چاہ رہا ہو۔

کریک اس پوری صورتحال میں اس حد تک پریشان ہو گیا کہ اس نے پروفیسر سے مشین بندھ کرنے کا کہا لیکن اچانک ٹیلی فون کی گھنٹی بھی اور کریک نے فون اٹھا لیا، کریک حیران تھا کیونکہ اس کی بہن اس سے بات کر رہی تھی، بھائی بہن کو صفائیاں پیش کر رہا تھا کہ میں تمہیں بچا رہا تھا لیکن بچا نہیں پایا جس پر بہن نے چیخ ماری اور پھر کریک کو ایسا معلوم ہوا جیسے کہ سفید رنگ کا کچھ اس کے سامنے آ گیا ہو، دراصل وہ سفید رنگ روح تھی جو کہ کریک کے سامنے سے گزر رہی تھی۔ وہ روشنی اس حد تک تیز تھی کہ کریک اس روشنی کو برداشت نہیں کر پاتا اور اس کی آنکھیں ہی پھٹ جاتی ہیں۔ یعنی اس تجربے سے یہ تو ممکن ہو گیا تھا کہ روحوں سے بات چیت ممکن ہے۔

یہ پوری کہانی ہالی ووڈ فلم آئنسٹائن گاڈ ماڈل میں دکھائی گئی تھی جو کہ خود آئنسٹائن کا ماڈل تھا، جس میں ایک بات تو واضح تھی کہ مرنے کے بعد انسان کی روح ایک دوسرے جہاں چلی جاتی ہے جس کا انسان کو علم نہیں، جبکہ انسان چاہ کر بھی اس دوسرے جہاں کے بارے میں معلومات نہیں حاصل کر سکتا ہے کیونکہ اس کی سوچ ایک حد تک کی رکھی گئی ہے۔

اگرچہ یہ فلم میں دکھایا گیا تھا جسے افسانوی کہا جا سکتا ہے، مگر آنے والے دور میں سائنسدان ایسے ہی تجربات کریں، یہ امید بھی لگائی جا سکتی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US