کچھ لوگ ہوٹل میں جاتے ہی اپنا بیگ ٹب میں کیوں رکھ دیتے ہیں؟ مہنگے ہوٹلز کے 4 ایسے راز جن کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں

image

کسی کام کے سلسلے میں یا پھر گھومنے کی غرض سے جانے والے زیادہ تر لوگوں کو ہوٹل میں قیام کرنا پڑتا ہے۔ ہوٹل جتنے مہنگے ہوتے ہیں اتنا ہی اپنے گاہکوں کے آرام کا خیال رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود ہوٹلوں میں ہمیں کچھ چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم ہوٹلوں کے مختلف راز اور ان کے بارے میں کچھ دلچسپ معلومات آپ کو دیں گے۔

ہوٹل پہنچ کر سب سے پہلے بیگز کو باتھ ٹب میں ڈال دیں

ہوسکتا ہے آپ ہوٹل کے بستر پر آرام کررہے ہوں اور اچانک ننھے منے کیڑے کاٹنا شروع کردیں۔ اس سے پہلے کے بہت دیر ہوجائے ہم آپ کو اس مصیبت سے بچنے کے آسان طریقہ بتا دیتے ہیں۔ ہوٹل پہنچتے ہی اپنے بیگز باتھ ٹب میں ڈال دیں۔ دراصل آپ کا بیگ طویل سفر کے بعد جراثیم اپنے اندر جمع کرچکا ہوتا ہے اس لئے ہوٹل پہنچ کر انھیں بستر یا کمرے کے بجائے سب سے پہلے باتھ روم میں رکھنا ایک عقلمندی کا فیصلہ ہے کیوں کہ کیڑے مکوڑے صابن ملے پانی میں زندہ نہیں رہ سکتے۔

سفید تکیے اور چادریں

ہوٹلوں میں زیادہ تر سفید تکیے، چادریں اور پردے وغیرہ استعمال ہوتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی اس کی وجہ سوچی؟ دراصل یہ رنگ ایک تو لگژری ظاہر کرتے ہیں دوسرے اس رنگ رنگ کے کپڑوں کو ایک ساتھ بلیچ ڈال کر دھونا آسان ہوتا ہے سفید کپڑوں میں رنگ اترنے کا ڈر نہیں ہوتا۔

ہوٹل سے چیک آؤٹ کی ٹائمنگ

اگر آپ کبھی کسی ہوٹل میں ٹہرے ہوں تو شاید یہ بات نوٹس کی ہو کہ چیک آؤٹ ٹائم ١١ سے ١٢ بجے کا ہوتا ہے۔ ایسا اس لئے تاکہ لوگ آرام سے اٹھ کر ناشتہ کر سکیں اور واپسی کا سامان پیک کرنے کے لئے انھیں اچھا خاصہ وقت مل سکے اور دوسرے مہمانوں کے آنے سے پہلے عملے کو صفائی کا وقت بھی مل سکے۔

بستر کے پاس بجلی کے پلگز نہیں ہوتے

مہنگے اور معیاری ہوٹلوں میں اکثر ہی بستر کے پاس بجلی کے پلگز نہیں ہوتے جس کی وجہ سے موبائل چارجنگ کے لئے لگانا ایک مسئلہ ہوتا ہے۔ ایسا اس لئے ہے کیوں ک زیادہ تر مشہور ہوٹل اس زمانے کے بنے ہوئے ہیں جب موبائل اتنا عام نہیں تھا اور دوسری بات یہ کہ بستر کے قریب بجلی کے پلگز نہ لگانے کا ایک مقصد لوگوں کو کرنٹ وغیرہ سے محفوظ رکھنا بھی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US