انسان کی زندگی صرف اس کو پیدا کرنے والے کے ہاتھ میں ہے کہ کب وہ سانسوں کی مہلت ختم کر دے اور کب انسان خُدا کے حضور پیش ہو جائے۔ لیکن موت سے زندگی کے درمیان کا وقفہ خُدا نے عبرت حاصل کرنے کے لئے بنایا، اپنے آپ کو سدھارنے اور دوبارہ اس کے سامنے پیش ہونے کی تیاری کے لئے بنایا ہے۔ کچھ لوگوں کی موت اتنی اچانک ہو جاتی ہے کہ کسی کو اندازہ بھی نہیں ہوتا لیکن مرنے والا انسان اس آخری وقت کی آزمائش سے خود گزرتا ہے اور دنیا سے چلا جاتا ہے۔
آپ نے اکثر لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ انہوں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا ہے یا بس سانس نکلنے ہی والا تھا اچانک زندگی کی گاڑی چل پڑی۔ ایسے الفاط ہم روزمرہ زندگی میں سنتے ہی رہتے ہیں لیکن وہ شخص جس پر ایسا وقت گزرتا ہے اس کو شاید کچھ فیصد یہ انداز ہوتا ہے کہ مرتے وقت اس کے ساتھ کیا کیا ہوسکتا ہے۔
سعدیہ سہیل اپنی زندگی کا ایک مشکل ترین واقعہ بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ موت ایک پر اسرار چیز ہے۔ کوئی اس کو رب کے پاس جانے کا ذریعہ سمجھتا ہے تو کوئی ایک برے وقت سے اچھے کی طرف جانے کا وقت سمجھتا ہے۔ کچھ سال پہلے جب میرا بیٹا 4 سال کا تھا میری بہت طبیعت خراب ہوگئی تھی، میری سانسیں آہستہ آہستہ ختم ہو رہی تھیں۔ ایک طرف میری ساس میرے لئے دعائیں کر رہی تھیں مجھ پر دم درود کر رہی تھیں، ایک طرف میرے والد مجھے پیار کر رہے تھے۔
مجھے اچانک لگا کہ جیسے میرے پاؤں کے انگھوٹے سے کوئی چیز سرکنا شروع ہوگئی ہے۔ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ وہ سرکتی جا رہی ہے اور اب اوپر کی طرف آگئی ہے۔ اور مجھے سمجھ آگیا کہ اب شاید میرے دنیا سے جانے کا وقت آگیا ہے اور میں مرنے والی ہوں۔
میں یہ گھر والوں کو بتانا چاہتی تھی مگر بتا نہیں سکی۔ میں نے اپنے والد کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا۔
آہستہ آہستہ مجھے لگا کہ شاید میری جان نکلنے والی ہے اور اب پورے جسم میں لرزا طاری ہوگیا تھا۔ جب وہ چیز میری گردن کے پاس آئی اور اس جگہ پر زور پڑا تو مجھے محسوس ہوا کہ بہت سارے جہاز کے جیسے انجن ایک ساتھ چل پڑتے ہیں۔
ایک زور کی آواز تھی اور اچانک وہ چیز مجھے لگا کہ نکل گئی میرے اندر سے۔ میں اپنے والد کو دیکھ رہی تھی کہ وہ گھبرا گئے کہ شاید میں ختم ہوگئی۔ پھر ڈاکٹروں نے میری نبض چیک کی اور مجھے پمپ کیا گیا جب مجھے محسوس ہوا کہ میں تو مرنے والی تھی۔
میری اس وقت خُدا سے یہی دعا تھی کہ میرا بچہ چھوٹا ہے وہ کیسے میرے بغیر رہ سکے گا، اللہ مجھے زندگی میں واپس بھیج دے۔
یہی انسان کی زندگی کا آخری لمحہ ہے شاید، کبھی بھی کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ اپنے گھر والوں کا اور دل سے قریبی لوگوں کا خیال رکھیں۔ خُدا سب کے اس مشکل وقت میں رحم فرمائے۔