سوشل میڈیا صارفین اکثر ان چیزوں کو پسند کرتے ہیں جو کہ وہ خود بھی محسوس کرتے ہیں، ان میں سے بیشتر ایسے بھی ہیں جو کہ انسان کے جذبات کی عکاسی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
راستے میں جب کبھی بے ہنگم ٹریفک میں کسی ایمبولینس کی جانب نظر پڑتی ہے تو ہم سے بیشتر لوگوں نے یہ ضرور سوچا ہوگا کہ یا اللہ اس ایمبولینس میں موجود مریض کو شفائے کاملا نصیب کرے،
یہ دعا دیتے وقت ہمارے جذبات کچھ یوں ہوتے ہیں کہ آنکھوں میں تکلیف، چہرے پر سنجیدگی اور ایک منٹ کو زندگی تھم کر رہ جاتی ہے۔ یہ لوگ وہ ہوتے ہیں جو کہ انسانیت کے درد کو محسوس کر لیتے ہیں، ان لوگوں کو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ایمبولینس میں موجود مریض پر کیا بیت رہی ہوتی ہے۔
ساتھ ہی یہ دعا بھی کر رہے ہوتے ہیں اللہ کسی کو بھی ایمبولینس کا منہ نہ دکھائے، لیکن اگر ہم میں سے اکثر لوگ ایمبولینس میں کسی تابوت یا سفید کفن کو دیکھتے ہیں تو ہمارا دل تو دہل ہی جاتا ہے ساتھ ہی افسردی بھی چھا جاتی ہے۔
یہ منظر ہوتا ہے جب ایک جان اپنے آخرت کے سفر پر روانہ ہو رہی ہوتی ہے تو دوسری جان دنیا کی رنگینیوں میں مگن ہوتی ہے۔ انسان یہ بھی سوچتا ہے کہ دنیا چل رہی ہے اس ایک کے جانے سے کون سا دنیا رُک گئی، لیکن اپنے کاموں میں مگن رہتا ہے، یہ بھول جاتا ہے کہ جیسے یہ شخص گیا اسی طرح ہمیں بھی جانا ہوگا۔
ایمبولینس میں موجود میت کو دیکھ کر کئی تو رو بھی جاتے ہیں اور جو سچ مچ آخرت کے انجام سے ڈرتے ہیں وہ تو میت کی مغفرت اور آخرت کے سفر میں آسانی کے دعا بھی کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جانتے ہیں کہ اگر آج اس شخص کی باری ہے تو کل کو ہماری بھی باری آنی ہے۔
اگر آپ بھی اس قسم کے تجربے سے گزرے ہیں، تو یقین جانیں آپ کا دل اب بھی انسانیت کے لیے دڑھکتا ہے، کیونکہ آپ دوسروں کے لیے احساس ہمدردی اور محبت رکھتے ہیں۔