خیبر پختونخوا کے محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری ایک سرکاری خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شانگلہ میں زمین کے حصول کے لیے 4 کروڑ 6 لاکھ 20 ہزار روپے کی رقم سے متعلق جاری کیا گیا ایک خط جعلی تھا اور محکمہ خزانہ نے ایسا کوئی خط جاری نہیں کیا۔
محکمہ خزانہ کی جانب سے 30 جنوری 2024 کو ڈپٹی کمشنر شانگلہ کو لکھے گئے خط کے مطابق ایک ایسا مراسلہ محکمہ کے نوٹس میں آیا جس میں الپوری کے علاقے لیلونئی میں کھیل کے میدان کے لیے زمین کے حصول کے نام پر رقم کی منظوری یا ریفنڈ واؤچر کا ذکر کیا گیا تھا۔
محکمہ کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد واضح کیا گیا کہ یہ خط نہ تو دستخط شدہ تھا اور نہ ہی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کیا گیا۔
محکمہ خزانہ نے اپنی سطح پر خط کو جعلی قرار دے کر معاملہ واضح کر دیا ہے، تاہم دستاویز خود اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایسے واقعات کی مکمل چھان بین ناگزیر ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ جعلی خط کس نے تیار کیا؟ کس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا؟ اور کیا اس نوعیت کی کوششیں دیگر اضلاع میں بھی کی جا رہی ہیں؟
واضح رہے کہ کھیلوں کے ایک ہزار منصوبے سہولیات میں اس وقت صوبائی انسپکشن ٹیم تحقیقات کررہی ہے۔