یہ بستی کیسے الٹی، دو مزاروں کے سامنے موجود اس الٹی بستی کی اصل کہانی کیا ہے؟

image

سوشل میڈیا پردلچسپ اور عجیب و غریب معلومات تو بہت ہیں لیکن کچھ ایسی ہیں جو کہ سب کو حیرت میں بھی مبتلا کر دیتی ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو سیہون کی الٹی بستی کے بارے میں بتائیں گے۔

سندھ کے شہر سیہون شریف لال شہباز قلندر کی وجہ سے سب کی توجہ حاصل کر لیتا ہے مگر یہاں موجود ایک ایسی بستی بھی اہمیت رکھتی جو کئی سو سال پرانی ہے۔

سیہون کی الٹی بستی کے چند اہم شخصیات ہیں جن کی بنا پر آج یہ الٹی بستی موجود ہے، بودلہ بہار جو کہ لعل شہباز قلندر کا بے پناہ چاہنے والا تھا، چوپٹ راجا جو کہ اس بستی کا مہاراجہ تھا جسے الٹایا گیا۔

مقامی طور پر یہ بات مانی جاتی ہے کہ مہاراجہ کو یہ بات ناگزیر گزرتی تھی کہ بودلہ بہار لعل شہباز قلندر کو اہمیت کیوں دیتا ہے، مہاراجہ کی جانب سے بے انتہا دباؤ بھی ڈالا جاتا مگر بودلہ لعل شہباز قلندر کا مرید تھا۔

ایک مرتبہ جب بودلہ لعل شہباز قلندر کے کام سے گیا تھا تو مہاراجہ نے اسے بلوا لیا اور لعل شہباز قلندر سے دوری اختیار کرنے کو کہا جس پر بودلہ نے صاف انکار کر دیا، مہاراجہ کو یہ بات اس حد تک ناگوار گزری کہ اس نے مجھے منع کیوں کیا اور اپنے محافظوں کو حکم دیا کہ اس کے ٹکڑے کر دیے جائیں۔

حکم کی تعمیل کے مطابق بودلہ بہار کے ٹکڑے کر دیے گئے اور دوسری جانب لعل شہباز قلندر معمول کے مطابق بودلہ کے منتظر تھے مگر اس بار بودلہ بہار نہ آئے، جس پر لعل شہباز قلندر کو خود بودلہ بہار کو ڈھونڈنے کے لیے جانا پڑا، جیسے ہی لعل شہباز قلندر مہاراجہ کے پاس پہنچے اور انہیں پوری صورتحال کا علم ہوا تو کہا جاتا ہے کہ لعل شہباز قلندر طیش میں آ گئے تھے۔

بودلہ بہار کے قتل پر لعل شہباز نے رب کائنات سے مہاراجہ کے محل کو الٹا کرنے کی بددعا کی تھی، اس بددعا کا اثر یہ ہوا کہ آج تک یہ مقام عبرت کے مقام کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ یہ ویڈیو چلتے پھرتے نامی یوٹیوب چینل کی جانب سے اپلوڈ کی گئی تھی۔

اسی بستی کے پاس ہی بودلہ بہار اور حضرت لعل شہباز قلندر کا مزار بھی موجود ہے۔

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US