کراچی میں
سپر ہائی وے کے قریب نجی سوسائٹی میں 17 سالہ نوجوان جزلان اپنے دوستوں کے ساتھ گاڑی میں گھوم رہا تھا۔ سڑک پر اچانک ایک موٹر سائیکل سوار لڑکا آیا اور اس نے زگ زیگ کرنا شروع کردیا، کبھی بائیک کو گاڑی کے قریب لاتا تو کبھی اتنی زور سے بریک مارتا کہ گاڑی میں موجود نوجوانوں کو ڈر لگتا کہ کہیں کوئی حادثہ پیش نہ آ جائے، اسی وجہ سے جب جزلان اور اس کے ساتھیوں نے موٹرسائیکل پر سوار اوباش لڑکے کو منع کیا اور کہا کہ ایسا نہیں کرو تو ان لوگوں کے درمیان آپس میں تلخ کلامی ہوگئی۔
اس کے بعد ملزم عرفان فیض اپنے گھر سے بھائی اور دیگر ساتھیوں کو لے آیا، آپس میں ہاتھا پائی ہوئی اور ملزم کی جانب سے فائرنگ کردی گئی جس کے نتیجے میں 17 سالہ جزلان زندگی کی بازی ہار گیا۔ اس واقعے کا مقدمہ کئی گھنٹوں تک درج نہ ہوسکا کیونکہ ملزم عرفان ایک امیر باپ کی اولاد ہے جس کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جا رہا تھا، مگر اب کئی گھنٹوں کے بعد یہ مقدمہ مقتول جزلان کے چچا کی مدعیت میں گڈاپ تھانے میں درج کرلیا گیا۔
پولیس نے جزلان قتل کیس میں ایک ملزم حسنین کو گرفتار کرلیا جبکہ فائرنگ میں ملوث حسنین کے تین بھائی فرار ہوگئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
وہیں دوسری جانب ازلان کے دوست شہریار کو بھی شدید چوٹیں آئیں ہیں، وہ اس وقت نجی ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔
واضح رہے جزلان اے سی سی اے کا طالبِعلم تھا اور اس کو چارٹر اکاؤنٹنٹ بننا تھا۔ اس کی موت کے بعد گھر والے اور دوست احباب غم سے نڈھال ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی جسٹس آف جزلان ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے۔ صارفین کمنٹ کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ آخر کب تک یوں با اثر افراد کے بیٹوں کی گولیوں سے عام انسان زندگی کی بازی ہارتے رہیں گے۔