اب اسے کفایت شعاری کہیے یا کنجوسی لیکن ہمارے گھروں میں ایک بار جو چیز آجائے وہ اس وقت تک نہیں پھینکی جاتی جب تک وہ بالکل خراب نہ ہوجائے یا پھر اس سے ہمارا کوئی بڑا نقصان ہی نہ ہوجائے۔ آج ہم آپ کو چند ایسی چیزوں کے بارے میں بتائیں گے جن کو ان کی ایکسپائری ڈیٹ سے زیادہ استعمال کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
استری
یہ لفظ دیکھ کر آپ چونک گئے ہوں گے کیوں کہ ہم سب کے ہاں ہی استری تب تک استعمال ہوتی ہے جب تک وہ مکمل طور پر کام کرنا بند نہ کردے۔ جبکہ آج کل آنے والی استریاں صرف ایک سال کی وارنٹی کے ساتھ آتی ہیں اور یہی وجہ ہے ایک سال بعد وہ کپڑوں پر کالے داغ چھوڑنے لگتی ہیں۔ تو بجائے ان پر ٹوٹکے آزما کر انھیں صاف کرنے کے انھیں بدل دیں۔
پونچھے کا کپڑا
کیا آپ جانتے ہیں کہ پونچھے کے کپڑے کی بھی ایک ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے۔ انھیں زیادہ سے زیادہ ہر 2 ماہ بعد بدل لینا چاہیے تاکہ ان کے اندر پلنے والے جراثیم آپ کو بیمار نہ کریں۔
ڈور میٹ
ڈور میٹ بھی صرف اسی حالت میں بدلا جاتا ہے جب تک وہ پھٹ نہ جائے لیکن اسے زیادہ سے زیادہ 2 سال بعد تبدیل کرلینا چاہیے کیوں کہ اس میں جراثیم اپنی آماجگاہ بنا لیتے ہیں۔ اس کو ہر ہفتے دھونا بھی چاہیے۔
نالی صاف کرنے والا پمپ
اس پمپ کے ٹوٹنے کا انتظار نہ کریں بلکہ جیسے ہی پمپ کرنا چھوڑ دے اس پر طبع آمائی کرنے کے بجائے نیا پمپ خرید لائیں۔
تکیہ غلاف
ہمیشہ تکیہ کے اوپر غلاف سے پہلے بھی ایک غلاف چڑھائیں تا کہ اوپر والے غلاف پر بیٹھی دھول مٹی تکیہ کے اندر جذب نہ ہو۔ تکیہ غلاف مسلسل دھلنے کے باوجو ڈیڑھ سے 2 سال بعد استعمال کے قابل نہیں رہتے اس لئے ان کو پھینک کر نئے غلاف استعمال کرنا بہتر ہے۔