اس قبر سے ہر بدھ کو پانی کیوں نکلتا ہے اور اس کے ساتھ گھر کے لوگ 400 سال سے کیوں رہ رہے ہیں؟

image

گھر میں 400 سال پرانا بیری کا ایک درخت بھی ہے جس کی جڑیں نہیں ہیں اور وہ 400 سال سے بنے اس گھر میں قائم ہے۔ لاہور میں موجود اس گھر میں قبریں ہیں جو کہ یہاں کے رہائشی افراد کے باپ دادا کی ہیں۔ یہاں فضل حسین شاہ صاحب جو کہ سیالکوٹ سے لاہور آئے تھے، ان کو راجا رنجیت سنگھ نے یہ گھربنا کر دیا تھا۔ 400 سال پہلے بابا جی فضل حسین نے بیری کا یہ درخت لگایا، اس کی جڑیں بھی نہیں ہیں اور اس پر شدید آسیب ہیں۔ فضل حسین شاہ صاحب نے اپنے بیٹوں سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ان کو اسی گھر میں دفن کیا جائے، چنانچہ ان کو یہیں دفنا دیا گیا ، اس کے بعد ان کے بیٹوں اور پھر ان کے بیٹوں نے یہیں دفن ہونے کی وصیت کی چنانچہ اب یہ آٹھویں پیڑھی ہے جو کہ اس گھر میں رہ رہی ہے اور اس قبرستان کی دیکھ بھال بھی کرتی ہے اور اس جگہ ان کے بیوی بچے سب رہتے ہیں ۔ یہاں کے رہائشی افراد نے بتایا کہ ہمیں اب یہ سب نارمل لگتا ہے ہمیں ڈر نہیں لگتا۔ یہاں آسیب بھی ہیں جنہیں ہم دیکھتے ہیں اور چلتے پھرتے نظر آتے ہیں ، لیکن ہمیں یہ جگہ چھوڑ کے جانے کا کبھی خیال نہیں آیا۔

پانی والی قبر

یہاں سیڑھیوں کے ساتھ ایک کمرہ ہے جو بند رہتا ہے، وہاں آسیب کا، سانپ کے کاٹے کا، مرگی کے مریضوں کا علاج کیا جاتا تھا اور اب بھی کیا جاتا ہے۔ یہاں ایک ایسی قبر بھی ہے جہاں سے ہر بدھ اور جمعرات کو پانی نکلتا ہے۔ یہاں کے رہائشی کا کہنا ہے کہ ہم نے آس پاس سب دیکھ لیا شاید کوئی پانی کا پائپ یا ڈرینیج سسٹم نہ ہو، لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔ بس ہر بدھ یا جمعرات یہاں سے پانی جاری ہو جاتا ہے۔ لیلۃ القدر یا رمضان میں اس قبرستان سے خود ہی تلاوت کی آوازیں آنے لگتی ہیں، اذانوں کی آوازیں آتی ہیں۔

رشتے دار آنے سے ڈرتے ہیں

انہوں نے بتایا کہ ان کے گھر آنے سے رشتے دار بھی ڈرتے ہیں اور اگر آتے بھی ہیں تو شام سے پہلے لوٹ جاتے ہیں۔ رہنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ قبروں کے ساتھ ہی سرنگ بھی تھی جو کہ شاہی قلعے میں نکلتی تھی کیونکہ شاہی قلعہ ان کے قریب ہی ہے۔ ہم نے اس سرنگ کو بند کروادیا۔ یہاں سانپ بھی ہیں ،ا بھی کچھ دن پہلے بھی تقریباً دس فٹ لمبا سانپ نکلا تھا ، لیکن یہ سانپ کاٹتے نہیں ہیں ، نکلتے ہیں پھر اپنے بلوں میں واپس چلے جاتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US