سابق وزیر اعظم عمران خان ان دنوں پاکستان سمیت دنیا بھر میں کافی مشہور ہیں، ان کی وجہ شہرت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بچوں سے الگ اس ملک میں عام پاکستانیوں کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
عمران خان اور جمائما خان کے دو بیٹے ہیں، سلیمان اور قاسم خان، دونوں بیٹے خان صاحب ہی کی طرح دراز قد اور گوری رنگت کے مالک ہیں۔
سابق وزیر اعظم اپنے بیٹوں کے ساتھ اکثر وقت بتایا کرتے تھے مگر ان دنوں وہ بمشکل ہی بیٹوں سے بات کر پا رہے ہیں، ماضی میں سلیمان اور قاسم والد کے پاس چھٹیاں گزارنے بھی آیا کرتے تھے، جہاں وہ پاکستان کے خوبصورت مقامات پر والد کے ساتھ وقت بتایا کرتے تھے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان نے اس انٹرویو میں نہ صرف اپنے بچوں کا ذکر کیا بلکہ جمائما کے حوالے سے بھی بات کی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ قاسم اور سلیمان سے ملے ہوئے ڈھائی سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے، بیچ میں کرونا آ گیا تھا اور پھر بیٹوں سے ملاقات ہی نہیں ہو پائی تھی۔ کرونا کے بعد ٹریویل کے مسائل آ گئے تھے۔
عمران خان بتاتے ہیں کہ پتہ نہیں بیٹے کس حال میں ہوں گے، عمران خان پاکستان کا شمار ان سیاست دانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے قوم کی خاطر اپنے بچوں کو بھی اہمیت نہیں دی۔
لیکن اس انٹرویو میں عمران خان جذباتی دکھائی دیے تھے، ان کا کہنا تھا کہ جب بچے چھوٹی عمر میں ہوں اور والدین میں طلاق ہو جائے تو یہ سب سے بُری چیز ہے جو طلاق کی وجہ سے ہوتی ہے۔
عمران خان اس حوالے سے فخر محسوس کرتے ہیں کہ بیٹے دور رہ کر بھی والد کے قریب ہیں، ایک ایسی ہی تصویر انہوں نے شئیر کی تھی جس میں بیٹے کینیا کی ایک مسجد میں نماز جمعہ کے موقع پر موجود تھے، بیٹوں نے کینیا کا روایتی لباس زیب تن کیا ہوا تھا جبکہ ٹوپی بھی پہنی ہوئی تھی۔
ملک کی موجودہ صورتحال میں عمران خان اپنے بچوں سے بھی نہیں مل پا رہے ہیں، جس کا انہیں دکھ تو ہے مگر وہ یہ سب بھی برداشت کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ خبر بھی کافی گرم تھی کہ قاسم خان نے لندن کی برسٹل یونی ورسٹی سے اسلامک ہسٹری میں گریجویشن کی ہے، مگر اس حوالے سے تصدیق شدہ ذرائع سے کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے۔
والد اب بھی بچوں کے تمام اخراجات کا خیال رکھ رہے ہیں، ان کے لیے عید کے تحفے اور دیگر ضرورت زندگی سے متعلق چیزوں کا خیال رکھتے ہیں۔ جب کبھی بیٹے پاکستان آتے ہیں تو ان کا خاص خیال رکھا جاتا ہے