یہ بے سہارابچے میری اولاد ہی ہیں ۔۔ ماں بن کر یتیم بچوں کا سہارا بننے والی یہ خاتون کون ہیں اور یہ اتنے بچوں کا کیسے خیال رکھتی ہیں؟

image

جن لوگوں دلوں میں خوفِ خدا موجود ہوتا ہے وہ کبھی انسانیت کی خدمت کے کاموں سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ ان کا ایک اولین مقصد غریب و بے سہارا افراد کی مدد کرنا، انہیں کھانا کھلانا اور ساتھ ہی رہنے کے لیے جگہ کا بندوبست کرنا ہوتا ہے۔

پاکستان میں بڑے پیمانے پر غریب، یتیم اور بے سہارا اَفراد اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے عبدالستار عیدھی کو کون بھول سکتا ہے جے کی انسانیت نبھاتے ہوئے وقف کردی۔ وہ انسانیت کی بہترین مثال ہیں اور اب جن خاتون کے بارے میں آج ہم بات کرنے جا رہے ہیں ان کے لیے ان کے والد اور پھر عبدالستار عیدھی انسپائریشن ہیں۔

مذکورہ خاتون کا نام صوفیہ وڑائچ ہے جن کا تعلق لاہور سے ہے۔ سماجی کارکن صوفیہ کئی سالوں سے روزانہ چار سو سے زائد افراد کو کھانا کھلاتی ہیں۔ صوفیہ وڑائچ ہسپتالوں کے باہر بیٹھے لواحقین کو اور دیہاڑی پر مشقت کرنے والے مزدوروں کے لئے کھانے کا بندوبست کرتی ہیں۔

صوفیہ المیرا کے نام سے فاؤنڈیشن چلاتی ہیں اور یہ میجر ریٹائرڈ رشید وڑائچ کی بیٹی ہیں۔ صوفیہ وڑائچ نے ایک ویب چینل کو انٹرویو میں بتایا کہ ان کے والد نے اس کام کا آغاز سن 1995 میں کیا۔ وہ خیرات کے کاموں میں بہت آگے آگے رہتے تھے جنہیں میں دیکھتی تھی اور ان کی روایت کو آج میں نے برقرار رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ میرے والد صبح صبح لنگر بانٹنے نکل جایا کرتے تھے اور مزدوروں کو کھانا دیا کرتے تھے۔

صوفیہ نے بتایا کہ ہم اپنے بل پر اس آرگنائزیشن کو لے کر چل رہے ہیں کوئی ہمیں فنڈز فراہم نہیں کرتا اور باقاعدہ یہ رجسٹرڈ آرگنائزیشن ہے۔

صوفیہ وڑائچ آج یتیم بچوں کا سہارا بھی بن چکی ہیں۔ انہوں نے باقاعدہ ایک ایسے بچوں کے لیے جگہ بھی لی ہے جہاں وہ ان کی دیکھ بھال اور کھانے پینے اور دیگر ضروریات کا خاص خیال رکھ رہی ہیں۔ باہمت خاتون صوفیہ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہیں بے سہارا بچوں کا ذمہ کے خیال بہت پہلے آیا تھا مگر گھر اس وقت میرے اپنے بچے بہت چھوٹے تھے جس کی وجہ سے میں یہ کیام شروع نہیں کرسکی۔

لیکن اللہ نے مجھے اب یہ استعطات دی اور اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہوں۔ صوفیہ نے بتایا کہ میری کوشش ہوتی ہے کہ جتنا میں بچوں کا خیال رکھتی ہوں اتنا ہی یتیم بچوں کا بھی رکھوں۔ یہ بھی میرے اپنے بچوں کی طرح ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US