اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے 9 ہزار 502 ارب روپے کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔
نان فائلرز کیلئے ٹیکس کی شرح 100 سے 200 فیصد کردی گئی،1600 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ایڈوانس ٹیکس میں اضافہ، الیکٹرک انجن کی صورت میں 2 فیصد ایڈوانس ٹیکس لاگو ہوگا۔سالانہ 30 کروڑ یا زائد آمدن والوں پر 2 فیصد ٹیکس ،ڈھائی کروڑ سے زیادہ کی پراپرٹی کے کرایہ پر ایک فیصد ٹیکس عائدکردیا گیا،ریٹیلرز کیلئے فکسڈ ٹیکس کا نظام متعارف، ٹیکس کی شرح 3 سے 10 ہزار روپے ہوگی۔
تنخواہ دارطبقے کیلئے ٹیکس چھوٹ کی حد 6 سے 12 لاکھ کردی گئی، کاروباری افراد اور ایسوسی ایشن آف پرسنز کیلئے ٹیکس چھوٹ کی حد 4سے 6 لاکھ کردی گئی۔ پنشنرز، بہبود سرٹیفکیٹ سمیت بچت اسکیموں کے منافع پر ٹیکس 5 فیصد کردیا گیا۔
آئی ٹی شعبے کے لیے 17 ارب روپے مختص،صحت کے اداروں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے 24 ارب روپے ،اعلیٰ تعلیم کے منصوبوں کے لیے 51 ارب روپے ،شاہراہوں اوربندرگاہوں کے لیے 202 ارب روپے ،بجلی کی پیداوار اور ترسیل کی مد میں 73 ارب روپے ، مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے 12 ارب روپے رکھے گئے، آبی وسائل کے لیے 100 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔
یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے تحت 20 لاکھ روزگارکے مواقع فراہم کیے جائیں گے، نوجوانوں کو کاروبار کے لیے 5 لاکھ تک بلا سود قرضہ دیا جائے گا۔ ڈھائی کروڑ روپے تک آسان اقساط پر قرض دیا جائے گا، قرض اسکیم میں 25 فیصد کوٹہ خواتین کا ہوگا۔
فصلوں اور مویشیوں کی تعداد بڑھانے کیلئے 21 ارب روپے مختص، فصلوں اور مویشیوں کی پیداوار کے لیے 3 سالہ پروگرام مرتب،سولرپینل کی درآمد اور مقامی سپلائی پرسیلز ٹیکس ختم کرنے کا اعلان، بجلی کے غریب صارفین کو سولر پینل قسطوں پر ملیں گے۔