دنیا میں ایسے کئی مقامات ہیں جن کے بارے میں مسلمان جاننا چاہتے ہیں، لیکن کچھ مقام ایسے ہیں جو کہ مسلمان، یہودی اور عیسائی تمام ہی کے لیے مقدس سمجھے جاتے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
فلسطین میں ویسے تو کئی بزرگان دین اور مذہبی شخصیات کے مزار موجود ہیں لیکن ان میں سے رابعہ بصری ایک ایسی ہستی ہیں جنہیں مسلمان تو عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھتے ہی ہیں مگر عیسائی اور یہودی بھی اہمیت دیتے ہیں۔
حضرت رابعہ بصری عراق سے تعلق رکھتی تھیں لیکن ان کا شمار ان خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے اللہ کی خوشنودی اور آقائے دو جہاں سے محبت اپنے آپ کو اسلام کی راہ میں وقف کر دیا تھا۔
صوفی ازم سے لگاؤ رکھنے کی وجہ سے رابعہ بصری کے کلمات مسلمانوں کے لیے پُر اثر ہوتے تھے، ان کی دعا کو کافی پسند کیا جاتا ہے،
"اے اللہ اگر میں دوزخ کی آگ کے ڈر سے تیری عبادت کرتی ہوں، تو مجھے دوزخ میں ڈال دے۔
اے اللہ اگر میں جنت کی خواہش کی وجہ سے تیری عبادت کرتی ہوں، تو مجھے جنت سے نکال دیو۔
لیکن اگر میں صرف تیرے لیے تیری عبادت کروں۔
پھر مجھے اپنے ابدی حسن سے انکار نہ کرنا۔"
حجرت رابعہ بصری کا مزار فلسطین میں ایک غار میں موجود ہے، اس غار کی بناوٹ کچھ اس طرح ہے کہ بڑے بڑے ہلکے براؤن رنگ کے پتھر اس غار پر نصب ہیں۔
جبکہ غار میں سیڑھیاں موجود ہیں جو کہ قبر تک لے جاتی ہیں، حضرت رابعہ بصری کی قبر پر چادر ڈلی ہے قبر پر کسی قسم کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔
البتہ غار ہی میں جگہ جگہ نماز کے لیے جگہ بھی بنائی گئی ہیں، کہا جاتا ہے کہ اس غار میں حجرت رابعہ بصری کے مزار کو بنانے میں صلاح الدین ایوبی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
مزار مبارک نامی یوٹیوب چینل پر حضرت رابعہ بصری کے مزار کی ویڈیو اپلوڈ کی گئی تھی، مقامی معلومات کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ یہودی بھی ان کے مزار پر حاضری دینے آتے ہیں۔
یہودی مذہب میں حضرت رابعہ بصری کو اہم مذہبی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، ان کا ایمان ہے کہ یہ وہی پیغمبر خٗلدہ ہیں، جن کے نام سے مسجد الااقصیٰ میں ایک گیٹ بھی واقع ہے جسے خُلدہ گیٹ کہا جاتا ہے۔ یہودیوں کے مطابق مسیحا اسی گیٹ سے آئیں گے جو کہ ان خاتون کے نام سے موجود ہے۔
دوسری جانب عیسائی حضرت رابعہ بصری کو راہبہ یعنی مدر کے طور پر اہمیت دیتے ہیں۔ عیسائیوں کے مطابق یہ سب سے پہلی راہبہ تھیں جن کا نام تھا پولاویا۔
یعنی عیسائی، یہودی اور مسلمان اپنے اپنے ایمان کے ساتھ ان کی قبر پر حاضری دینے آتے ہیں، لیکن مسلمان حضرت رابعہ بصری کو کافی اہمیت دیتے ہیں۔