طلاق کہنے کو ایک چھوٹا سا لفظ مگر ایک خاندان کو تہس نہس کر کے رکھ دیتا ہے۔ اس لفظ اور ناپسندیدہ عمل سے سب سے زیادہ متاثر وہ بچے ہوتے ہیں جن کا اس سارے قصے میں کوئی قصور نہیں ہوتا۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایسی تصویر وائرل ہوئی ہے جس میں طلاق کے بعد ایک ماں اپنے بیٹے سے 7 سال بعد ملتی ہے۔ تصویر دیکھیے
تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ماں بیٹا کس طرح زاروقطار رو رہے ہیں۔ شاید اتنے سالوں بعد ملنے سے دونوں کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے۔ بیٹا بھی ماں کی محبت کو ترسا ہوا تھا۔ جانے اپنی ماں کو اس نے آخری بار کب دیکھا ہو؟
طلاق بہن بھائی میں بھی جدائی ڈال دیتی ہے
طلاق لینے یا دینے سے پہلے ایک بار یہ ضرور سوچ لیں کہ آپ کے بچوں پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔ رشتوں کو توڑنے والا یہ عمل جہاں بچے کو اس کے ماں باپ سے جدا کرتا ہے وہیں بہن بھائی میں بھی جدائی ڈال دیتا ہے چاہے وہ ایک دوسرے سے کتنی ہی محبت کیوں نہ کرتے ہوں۔
پرسکون زندگی بچے کا حق ہے اسے محرومی میں نہ دھکیلیں
بچے کا مستقبل بھی غیر یقینی ہوجاتا ہے اور وہ بچہ جسے ماں باپ کی شفقت تلے ایک پرسکون زندگی گزارنی چاہیئے وہ محرومیوں کے سائے میں جینے پر صرف اس لیے مجبور ہوجاتا ہے کیونکہ اس کے ماں باپ ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرسکتے۔ اپنے بچوں کی خاطر ہی سہی ایک بار طلاق کے فیصلے سے پہلے اپنے بچوں کی جگہ خود کو رکھ کر سوچا کریں۔ شاید آپ کا فیصلہ بدل جائے۔