بونیر یونیورسٹی میں ایک ماں اپنے بچے کو دودھ پلانے ایسے کمرے میں جاتی ہے جہاں لائٹ جانے کی وجہ سے جنریٹر چل رہا ہوتا ہے لیکن تھوڑی دیر بعد ماں اور بچے کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر حادثے کا ذمہ دار جہاں یونیورسٹی کے اندر نرسنگ روم کا نہ ہونا قرار دیا جارہا ہے وہیں یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ جنریٹر انسانی جان بھی لے سکتا ہے۔ یہ کیسے ہوتا ہے اور جنریٹر کے سنگین نتائج سے ہم خود کو اور اپنے بچوں کو کیسے بچا سکتے ہیں؟ آئیے جانتے ہیں۔
کاربن مونوآکسائیڈ
جنریٹر سے ایسی زہریلی گیس خارج ہوتی ہے جس میں نہ بو ہوتی ہے نہ کوئی رنگت۔ یہ وہی گیس ہے جو گزشتہ برس مری حادثے میں کئی اموات کی وجہ بنی۔ اس گیس کو کاربن مونوآکسائیڈ کہتے ہیں۔
زہریلی گیس اعصاب پر حملہ کرکے انسان کو موت کے منہ میں لے جاتی ہے
ڈاکٹر فیصل اسد پھیپھڑوں کے امراض کے ماہر ہیں۔ اے آر وائی نیوز میں اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ کاربن مونوآکسائیڈ ہمارے جسم کے سرخ خلیات سے مل کر اعصاب کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ اس گیس کو مسلسل لینے سے انسان 5 منٹ میں مر سکتا ہے۔ کاربن مونوآکسائیڈ گاڑیوں میں بھی موجود ہوتی ہے لیکن سڑک چونکہ کھلی جگہ ہوتی ہے جہاں آکسیجن بھی ہوتی ہے اس لیے کاربن مونوآکسائیڈ براہ راست اور فوری طور پر جان لیوا نہیں ثابت ہوتی البتہ جنریٹر اکثر بند جگہوں پر رکھا جاتا ہے جس سے اموات ہوسکتی ہیں۔
جان لیوا حادثات سے بچنے کے لئے جنریٹر کہاں رکھیں؟
اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ جنریٹر کو ہمیشہ کھلی جگہ پر رکھیں تاکہ کاربن مونوآکسائیڈ ہوا میں اڑ جائے اور جمع نہ ہو۔ دوسرا طریقہ یہ کہ جنریٹر کو بند کرنے کے تقریباً 15 منٹ تک اس سے دور رہیں اور اس سے مضر گیس کا خاتمہ ہونے دیں۔