والدین اپنے بچوں کی پرورش کے لئے کتنے جتن کرتے ہیں ان کو پالتے ہیں۔ ان کی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ہر مشکل وقت کو گلے لگاتے ہیں لیکن اس سب میں والدین جس چیز کو نظر انداز کر دیتے ہیں وہ ہے تربیت اچھی پرورش، بہترین کردار کی بناوٹ اور نیک انسان بنانا۔ بچہ ان تمام چیزوں کے بناء نامکمل ہے۔ بچوں کو پڑھانا لکھوانا اور جوان کرنا زندگی میں آگے بڑھانا ہی والدین کا فرض نہیں بلکہ نیک انسان بنانا بھی ضروری ہے۔
عامر لیاقت اور ان کی پہلی بیگم بشری اقبال نے ایک ساتھ جتنا بی عرصہ گزارا وہ یقینا اخلاقیات کا ایک مثبت دور ہوگا کیونکہ ان کے بچوں میں شائستگی، شگفتگی، خوش اخلاقی حد سے زیادہ ہے۔ ان کے بچوں کو کبھی بدتمیزی کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ بچے جب بھی والد کے ساتھ آئے یا اکیلے دکھائی دیئے کبھی بھی کوئی بد تہذیبی نہیں دکھائی۔ جس کا سب سے بڑا سہرا ان کی والدہ کے سر پر بھی جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے نیک کردار اور با وقار سیرت سے بچوں کی تربیت کی۔ اس کی جتنی تعریف کی جائے وہ یقیناً کم ہے۔ اس بات کا منہ بولتا ثبوت وہ لمحات تھے جبکہ بیٹے نے والد کی خواہش کے مطابق ان کا جنازہ پڑھایا اور ایسی کوئی بات نہیں کی جس سے کسی کی دل آزاری ہو جبکہ ان کے والد پر لاکھوں لوگوں نے میمز بنائیں، ان کا مذاق اڑایا اور سچ جانے بناء ان کی تذلیل کی۔
والدین کو چاہیئے کہ آپس کے اختلاف کو بچوں کے سامنے واضح نہ کریں ان کو یہ نہ دکھائیں کہ والدین غلط ہیں بلکہ یہ ظاہر کریں کہ والدین محبت کا درس دیتے ہیں سب کو مل بانٹ کر ہمدردی سے چلاتے ہیں اور آپس میں بھی اسی خلوص کے ساتھ رہتے ہیں کیونکہ والدین سے بچے سیکھتے ہیں اگر مثبت رویوں اور محبت کے ساتھ مل بانٹ کر گھر کے شجر کو اگایا جائے تو وہ پھل رس دار ہوتا ہے۔
بچوں کو یہ نہ سکھائیں کہ آپ لڑائی پسند ہیں یا کون طعن کرنے والے ہیں بلکہ یہ دکھائیں کہ آپ محبتیں بانٹنے والے ہیں۔ کسی کی برائی یا کسی کے لئے برے الفاظ نہ نکالیں ورنہ بچوں کی ذہنی صلاحیتیں مفلوج ہو جاتی ہیں۔ ان کو کسی سے موازنہ کرنا مت سکھائیں بلکہ ہمیشہ اس لگن کے ساتھ آگے بڑھانا سکھائیں کہ وہ اچھے اور برے کی تمیز کریں اور رواداری کے ساتھ معاملات کو چلائیں۔