اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو سیاسی معاملات کی تشریح نہیں کرنی چاہیے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ بیرونی مداخلت کے الفاظ مراسلے میں استعمال ہوئے ہیں۔ یہ سب حقائق مراسلے کے اندر موجود تھے۔
اسد عمر کا کہنا ہے کہ دو بار قومی سلامتی کی میٹنگ ہوئی اور اس میں واضح بیرونی مداخلت کے الفاظ لکھے گئے، عمران خان قانون پر عمل کرنے والے انسان ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے تاکہ قوم کو حقائق کا پتہ چلے۔
بیرونی مداخلت کے الفاظ مراسلے میں استعمال ہوئے ہیں یہ سب حقائق مراسلے کے اندر موجود تھے، کہا گیا تھا اگر تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو پاکستان کے لیے مشکل ہوگا، سائفر میں سیدھی سیدھی پاکستان کو دھمکی دی گئی تھی، قومی سلامتی کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں شیریں مزاری اور میں موجود تھے۔
اسد عمر کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان بطور چیئرمین تحریک انصاف سپریم کورٹ کو خط لکھیں گے کہ تحقیقات کی جائیں، ہم چاہتے ہیں جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں۔ قومی سلامتی کا دفاع کرنا منتخب قیادت کی بھی ذمے داری ہے۔عمران خان یہ نہیں کہہ رہے کہ ان کے تجزیے کو مان لیا جائے ان کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ قوم کا حق بنتا ہے کہ حقیقت تک پہنچا جائے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیریں مزاری نے کہا کہ اگر یہ تحقیقات نہیں ہوں گی تو معاملہ ختم نہیں ہوگا، ہم چاہتے ہیں کہ دوبارہ ایسا کچھ نہ ہو، عمران خان کا روس جانے کا فیصلہ سب سے مشاورت کے بعد کیا گیا تھا۔ہماری امریکن ایمبیسی سے ملاقات کی لسٹ آپ کے سامنے آ جائے گی، امریکی سازش کا ماڈل پہلے سے موجود ہے، ہم یہ کہہ رہے ہیں امریکا یہ پہلی بار نہیں کررہا۔