دعا زہرہ کی سندھ ہائی کورٹ میں پیشی کے دوران ان کے ارد گرد سفید کپڑوں میں موجود شخص دکھائی دیتا تھا جس پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے تھے کہ وہ کون ہے اور دعا کے ساتھ ساتھ کیوں ہوتا ہے۔
سفید کپڑوں والے شخص کے بارے میں قیاس آرئیاں کی جا رہی تھیں کہ وہ ایک گینگ کا سرغنہ ہے۔
اب وہ شخص خود منظر عام پر آگیا ہے جس نے ایک ویب ٹی وی کو انٹرویو دیا اور اپنے بارے میں بتایا کہ وہ کون ہے اور کس کے لیے کام کرتا ہے۔
ویب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ میرا نام محمود خان راجپوت ہے، میں سندھ پولیس میں ڈی ایس پی ہوں اور گذشتہ 9 ماہ سے سندھ ہائی کورٹ میں بطور ڈی ایس پی سیکیورٹی سندھہائی کورٹ تعینات ہوں۔
محمود خان راجپوت نے بتایا کہ ان کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ ہائی کورٹ کے باہر کوئی بھی خوشگوار واقعہ پیش ہونے پائے۔ اور باہر سے جو بھی ملزمان آتے ہیں تو انہیں محفوظ طریقے سے عدالت کے اندر لے کر جانا اور باہر ان کو چھوڑنا میری ذمہ داری میں شامل ہے۔
ڈی ایس پی محمود خان نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ 7 جون کو یوٹیوب پر ایک ویڈیو چلی جس میں دعا کے کسی رشتہ دار نے کہا تھا کہ انشااللہ ہم 8 تاریخ کو دعا زہرہ جیسی کورٹ آئے گی تو ہم دیکھیں گے کہ اسے کون واپس لے کر جاتا ہے اور یہ ہمارا آخری پیغام ہے کہ دعا کو ہم واپس جانے نہیں دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ویڈیو آج بھی میرے پاس موجود ہے۔ سندھ پولیس کے ڈی ایس پی نے بتایا کہ خدا ناخواستہ اگر کوئی ایسا واقعہ پیش آجاتا تو ذمہ داری تو میری تھی اور مجھ سے سوال کیا جاتا۔
ڈی ایس پی محمود خان نے مزید کیا بتایا دیکھیئے ویڈیو۔