سوشل میڈیا پر دلچسپ اور حیرت انگیز ویڈیوز تو بہت سی موجود ہیں لیکن کچھ ایسی ہوتی ہیں جو کہ سب کی توجہ حاصل کر لیتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ملتان کے گاؤں میں ہونے والی منفرد شادی کے بارے میں بتائیں گے۔
ویلا منڈا نامی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر سرائیکی ثقافت سے متعلق دلچسپ ویڈیوز اپلوڈ کی جاتی ہیں، جس میں کچھ ایسے لمحات ہوتے ہیں جو کہ سب کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔
ایک ایسے ہی وی لاگ میں ویلے منڈے نے دو دولہوں کی شادی کو دکھایا ہے، جس میں رات کے وقت بارات جا رہی ہے، عام طور پر گاؤں دیہات میں شادی دوپہر کے وقت ہی انجام پاتی ہے، لیکن اس گاؤں کی خاص بات یہ ہے کہ بارات روانہ ہی مغرب کے وقت ہوئی جو کہ بعدازاں اندھیرے میں پہنچی۔
دلہن کے گھر جب بارات پہنچی تو یوں معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے یہاں روشنی کا نام و نشان ہی نہ ہو، صرف گاڑی کی اور مختلف روشنیوں کی موجودگی میں ہی بارات کو دیکھا جا سکتا تھا، اسٹریٹ لائٹس بھی نہ ہونے کے برار تھیں جس کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہو جاتا ہے۔
سخت سردی کا موسم اور اوپر سے پیدل کھیتوں میں سے سفر، بارات لے جانے کا یہ انداز صارفین کے لیے حیرت زدہ تو تھا مگر یہ چیز بھی دلچسپی کا باعث بن رہی تھی، لیکن اس منفرد شادی کو دیکھنے والے اسے باقاعدہ طور پر محسوس کر رہے تھے۔
ساتھ ہی دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ایسی شادیوں میں باقاعدہ طور پر پیلے رنگ کے کپڑے پہنے ڈھول باجے والوں کو مدعو کیا جاتا ہے، صرف وہی سرائیکی رقص "جھومر" کر سکتے ہیں۔
دلہے اس سب میں دلچسپی کا باعث اس لیے بھی ہوتا ہے کہ انگلیوں میں مہندی، آنکھوں میں کاجل اور چہرے پر شرماہٹ کی وجہ سے منفرد طور پر دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔
جبکہ دلہے کے لیے خاص طور پر دیسی گھی کی چوری بنائی جاتی ہے، جیسے ہی دلہا بارات لے کر دلہن کے گھر آتا ہے تو دلہن والے سب سے پہلے دلہے کو گھر کی دیسی گھی سے بنی چوری پیش کرتے ہیں، یہ رسم سرائیکی قوم میں دلچسپ اور اہم سمجھی جاتی ہے۔ جبکہ دلہے کے ساتھ ایک ایسا کزن بھی موجود ہوتا ہے جو کہ دلہے ہی کی طرح تیار ہوتا ہے یوں معلوم ہوتا ہے کہ دو دلہے ایک ہی شادی میں ہوتے ہیں۔