شہر ڈوب گیا، مگر مسجد کھڑی رہی ۔۔ بنگلادیش میں آنے والے سیلاب کی تباہی میں مساجد کے ساتھ کیا ہو گیا؟

image

دنیا بھر میں ان دنوں شدید موسمی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، بنگلادیش بھی ان دنوں سیلابی صورتحال سے دوچار ہے، جہاں سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

گزشتہ کئی دنوں سے بنگلادیش میں جاری مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی ہے، ملک کے شمالی علاقوں میں اس وقت سیلابی صورتحال ہے، جہاں بارش کا پانی گاڑیوں، گھروں، سڑکوں اور دیگر کئی چیزوں کو ساتھ بہا لے گیا۔

اس سب میں سوشل میڈیا پر کچھ ایسی ویڈیوز اور تصاویر بھی وائرل ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شدید سیلابی صورتحال میں ملک کے شمالی حصے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بنگلادیش میں موجودہ صورتحال میں اب تک 41 افراد جان سے چلے گئے ہیں جبکہ کئی عمارتوں اور مقامات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

بنگلادیش کا علاقہ سیلہٹ مون سون بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، سیلہٹ میں مساجد، اسکول، آفسز اور گھر بھی سیلابی ریلے کی زد میں آئے ہیں، اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ صارف نے ایک ویڈیو اپلوڈ کی جس میں سیلہٹ میں موجود اپنے گاؤں کی صورتحال کے بارے میں بتا رہا تھا۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسجد کے اندر بھی پانی موجود ہے جبکہ علاقہ مکین اور شہری محفوظ مقامات کی جانب رواں دواں ہیں۔ ایک اور ایسی ہی ویڈیو وائرل ہے جس میں سیلابی پانی مسجد کے اندر بھی موجود ہے، پانی کئی فٹ تک مسجد کے اندر موجود ہے۔

ایک اور ویڈیو کافی وائرل ہے جس میں گھر کی کھڑکی سے صارف نے ایک ایسا خوفناک منظر دکھایا ہے جس نے سب کی توجہ حاصل کی، ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گھر کا کچھ حصہ بھی سیلاب کی نظر ہو رہا ہے، ایسی ہی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اس وقت وائرل ہیں۔ اس سیلابی صورتحال کو ماہرین 20 سال بعد خطرناک صورتحال کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

آدھا شہر سیلہٹ سیلابی صورتحال سے دوچار ہے، کئی کئی فٹ پانی جمع ہے، لوگ نہ نماز پڑھنے مساجد جا سکتے ہیں، نہ کاروبار کے لیے نکل سک رہے ہیں۔ شہر کی مجموعی صورتحال کچھ یوں ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے اور بنگلادیشی فوج شہر میں ریسکیو سروس کے لیے طلب کر لی گئی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US