کیا ایک ہی دن نکاح اور ولیمہ ہوسکتا ہے۔۔ شادی بیاہ کی رسمیں الگ الگ کرنے پر پیسہ ضائع ہوتا ہے تو کم پیسوں میں شادی کیسے کریں؟

image

شادیوں میں دنوں چلنے والی تقریبات نہ صرف وقت کا زیاں ہیں بلکہ سالوں محنت سے کمائے گئے پیسے کو بھی چند گھنٹوں میں آگ لگا دیتی ہیں۔ ایسی ہی تقریبات بارات اور ولیمے کی بھی ہیں جن میں لڑکے اور لڑکی والوں دونوں کے ہی کئی لاکھوں روپے برباد ہوجاتے ہیں۔ ولیمہ تو سنت ہے لیکن بارات اور بے جا اسراف کی اجازت ہمارا مذہب ہمیں قطعی نہیں دیتا۔

ایک ہی دن نکاح اور ولیمہ

آج کل ایک نئی تقریب شلیمہ وجود میں آئی ہے۔ جس کا تصور تو کافی اچھا ہے۔ اس تقریب میں شادی یعنی بارات اور ولیمہ ایک ہی دن کیا جاتا ہے۔ اگرچہ دیکھا جائے تو یہ ایک اچھی روایت کا آغاز ہوسکتا ہے کیوں کہ اس میں دو کے بجائے ایک تقریب ہوتی ہے جس سے وقت اور پیسہ دونوں بچتا ہے۔ لیکن بحیثیت مسلمان ہمارے لئے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ شریعت اور علماء اس حوالے سے کیا کہتے ہیں۔

لڑکی کے گھر والوں پر مالی بوجھ

مفتی طارق مسعود سے اس حوالے سے کسی نے سوال پوچھا تو ان کا جواب تھا کہ اس تقریب میں می دو قباحتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ تقریب میں آدھے پیسے لڑکی والوں کو ادا کرنے پڑتے ہیں جو کہ غیر اسلامی طریقہ کار ہے۔ اسلام میں شادی کا کھانا یا کسی بھی تقریب میں خرچے کی ذمہ داری لڑکی کے خاندان پر نہیں ڈالی گئی۔

لڑکی شوہر کے گھر جاچکی ہو

جبکہ ولیمے کی سنت صرف اس وقت ادا ہوسکتی ہے جب دلہن دلہا کے گھر رخصت ہو کر جاچکی ہو۔ اس سے پہلے ولیمے کی کوئی تک نہیں بنتی۔ مولانا طارق مسعود کا کہنا ہے کہ شلیمہ اس صورت میں کیا جاسکتا ہے جب دعوت کا خرچہ لڑکا خود اٹھائے اور لڑکی نکاح کے بعد شوہر کے گھر جا چکی ہو۔

غیر اسلامی رسومات

مولانا طارق مسعود کا کہنا تھا کہ یہ بے جا رسمیں اسلام کا حصہ نہیں ہیں اور دیگر اسلامی ممالک میں ان کا تصور بھی نہیں ہے اس لئے ہمیں بھی جلد سے جلد ان کا خاتمہ کردینا چاہئیے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US