“شوہر مجھے مارتا تھا۔ میرا چھوٹا بیٹا 6 مہینے کا ہے اور ایک بیٹا 3 سال کا ہے۔ مدر فیڈ پر تھا بیٹا اس کے باوجود مجھے بغیر طلاق دیے گھر سے نکال دیا“
یہ لرزہ خیز داستان سنانے والی خاتون لاہور کی رہائشی رباب ہیں۔ رباب کا شمار ملک کی ان بد نصیب خواتین میں ہوتا ہے جنھیں ان کے شوہر اکیلا، بے بس اور کمزور سمجھ کر ظلم ڈھانے کی انتہا کردیتے ہیں۔ اے آر وائی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے رباب نے بتایا کہ ان کے شوہر ان پر تشدد کیا کرتے تھے لیکن بچوں کی وجہ سے وہ سب کچھ خاموشی سے سہہ جاتی تھیں لیکن ایک دن ان کے شوہر نے انھیں گھر سے ہی نکال دیا اور بچے بھی چھین لئے۔
پہلی بیوی خلع لے چکی ہے
رباب کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کی پہلی بیوی نے ان حرکتوں سے تنگ آ کر خلع لے لی لیکن وہ اپنے بچوں کی وجہ سے مجبور ہیں۔ رباب کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے شوہر نے ان پر کیس بھی کیا ہوا ہے اور یہ کہا ہے کہ وہ بچے خود چھوڑ کر گئی ہیں جبکہ یہ سچ نہیں ہے اس کے علاوہ عدالت کا فیصلہ بھی شوہر کے حق میں ہے۔ رباب کا کہنا ہے کہ کوئی عدالت بچوں کو ماں سے ملنے سے کیسے روک سکتی ہے؟
ماں پر چوری کا الزام لگاؤں گا
رباب کی والدہ کہتی ہیں کہ ان کے شوہر اور بیٹا ملک سے باہر ہیں اس وجہ سے ان کی بیٹی کے شوہر کو بہت زیادہ شے مل گئی ہے وہ اکیلی لڑکی سمجھ کر ظلم پر ظلم کرتا گیا اور رباب بچوں کی وجہ سے سہتی گئی۔ جب رباب نے کہا کہ میں اپنی ماں کو سب کچھ سچ بتادوں گی تو اس کے شوہر کا جواب تھا کہ “جاؤ بتادو پھر میں ان پر چوری کا الزام لگاؤں گا“
ہمارے معاشرے میں ظلم سہنے والی لڑکیوں کو تحفظ دینے کے لئے کوئی نظام کیوں نہیں؟
المیہ یہ ہے کہ عورتوں کے حقوق اور تحفظ کی دہائی دینے والے معاشرے میں آج بھی کئی شادی شدہ بیٹیاں، ظالم شوہر کے ہاتھوں تشدد اور ظلم سہنے پر مجبور ہیں۔ کہیں بچوں کی محبت تو کہیں بری عورت ہونے کا ٹھپہ لگنے کا خوف اور کہیں بوڑھے باپ کی پگڑی کا خیال ان شادی شدہ لڑکیوں کو شوہر کا برا رویہ سہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ایسا کوئی نظام ہی نہیں جہاں ان لڑکیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ظالم کے ساتھ ہی گٹھ جوڑ کرلیتے ہیں اور مظلوم چکی میں پستا رہتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس حوالے سے سخت قوانین مرتب کرے اور ترقی یافتہ ممالک میں عورتوں کو ملنے والے حقوق اپنے ملک کی خواتین کو بھی دیے جائیں۔