ذولفقار علی بھٹو کی قبر پر چونا کیوں ڈالا گیا تھا ؟ وہ معلومات جو ان کے چاہنے والوں کو بھی نہیں معلوم

image

پاکستانی سیاست کا بڑا نام ذولفقار علی بھٹو کو آج دنیا سے رخصت ہوئے کئی برس بیت چکے ہیں۔ ذولفقار علی بھٹو کو بابائے آئینِ پاکستان بھی کہا جاتا تھا۔ اُن کی دیدہ دلیری، جرات مندانہ فیصلوں سے طاقتور سے طاقتور ممالک بھی خوفزدہ رہتے تھے۔

دُنیا کے ممتاز ترین سیاستدان ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی ہوئی تھی جس کے بعد آج بھی کئی سال گزرنے کے بعد ان سے متعلق کئی چیزیں سوشل میڈیا پر آتی رہتی ہیں۔

ذولفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979 کو پھانسی دی گئی تھی جس کی وجہ یہ سامنے آئی تھی کہ انہوں نے یکم جنوری 1974 میں ذولفقار علی بھٹو نے پاکستان کے بینکوں کو قومی تحویل میں لے لیا جسے عالمی بینکار کنٹرول کرتے تھے۔ ان عالمی بینکاروں کے للکارنے کی وجہ سے انہیں پھانسی کی سزا دی گئی۔

جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی میں ہنری کسنجر کا خط لہرایا تھا جس میں واضح طور پر درج تھا کہ مسٹر بھٹو! آپ کو دنیا بھر نشانِ عبرت بنا دیا جائے گا۔ اور امریکہ نے ایسا کر کے بھی دکھایا۔ کہتے ہیں پھانسی سے قبل بھٹو اتنے لاغر ہو گئے تھے کہ انہیں پھانسی گھاٹ تک اسٹریچر پر ڈال کر لایا گیا تھا۔

ان کی قبر میں چونا ڈالا گیا تاکہ ان کا کبھی پوسٹ مارٹم نہ ہو سکے۔

مکمل معلومات کے لیے نیچے دی گئی ویڈیو دیکھیئے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US