پاکستان میں آنے والے سیلاب نے ہر شعبے کو تباہ کردیا ہے، وہیں ہزاروں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ نقصان ہی نقصان ہے اس کی تلافی شاید ہی صدیوں میں پوری ہو کیونکہ صرف ایک صوبہ نہیں بلکہ ملک کے تمام صوبے اس تباہی کی لپیٹ میں ہیں۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کا گھر بہہ گیا، ان کے مویشی ڈوب گئے، وہ خود پانی کے ریلوں میں بہہ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہچ گئے ، کتنے ہی لوگ اس پانی میں مر گئے، کتنے ہی جنازے پانی میں بہہ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ بہہ گئیں ہیں۔
20 سالہ اویس اسلام آباد سے 490 کلومیٹر دور تونسہ شریف کے رہائشی ہیں۔
رضاکاروں کی مدد سے سیلابی پانی میں سے 15 لاشیں نکالیں
محمد اویس طارق نے بتایا کہ: " میرے علاقے میں بہت لوگ مرگئے۔ میں نے رضاکاروں کی مدد سے سیلابی پانی میں سے 15 لاشیں نکالیں۔
پانی اتنا تھا کہ قبرستان تک ڈوب گئے، پھر ہم نے اپنی سمجھ بوجھ سے مردوں کو گھروں میں ہی کسی طرح دفنایا تاکہ ان کی لاش کی بے حرمتی نہ ہو۔
سیلابی پانی میں ڈوب کر مرنے ہونے والوں میں سے اکثر ایسے بھی ہیں جن کی لاشیں نہیں مل سکیں۔
’میں نے اپنے شہر کے قریب ایک گاؤں میں کیچڑ میں لت پت 5 سالہ بچے کو دیکھا۔ مجھے چند گھنٹے پہلے ہی مقامی افراد سے معلوم ہوا تھا کہ یہاں سیلابی ریلے نے تباہی مچائی ہے اور ایک بچہ اپنے باپ کے ساتھ پانی میں پھنسا ہوا ہے۔
اس کے والد کی لاش کو نکال کر بچے اور ماں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا، لیکن یہ بالکل بھی آسان نہ تھا۔
پانی سے اس قدر تباہی ہوئی کہ ہم رضاکار بھی اپنا گھر بار سب کچھ کھو چکے ہی، ہم نے فی سبیل اللہ کام کیا اور اپنے کام سے جس حد تک لوگوں کی مدد کرسکے، مدد کی لیکن ہمیں آج اپنے اور اپنے گھر والوں کے لئے خوف ہے کہ اب ہم کہاں رہیں گے۔