پاکستان میں ایک اور ننھی پھول جیسی بچی درندوں کے نشانے پر آگئی جب اُس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کر کے لاش کو سوئمنگ پول میں پھینک دیا گیا۔ یہ واقعہ لاہور میں پیش آیا جس کی ایف آئی آر مناواں تھانے میں درج ہوئی۔
اصل معاملہ سامنے آنے سے قبل یہ مؤقف پیش کیا جا رہا تھا کہ ماریہ نامی بچی سوئمنگ پول میں ڈوب کر جاں بحق ہوئی مگر حقیقت سامنے آنے کے بعد تہلکہ مچ گیا۔
اس حوالے سے پولیس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد بچی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا معلوم ہوا۔
پولیس کا مزید کہنا تھا کہ دس سالہ بچی کی لاش 28 اگست کو ملی تھی، جس کے بعد سوئمنگ پول کے مالک کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔
مقتولہ ماریہ اپنے بھائی اور چھوٹی بہن کے ساتھ 28 اگست کو سوئمنگ پول میں نہانے گئی تھی اور پھر اچانک غائب ہوگئی، جب بھائی نے ماریہ کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو سوئمنگ پول کے مالک نے بتایا کہ وہ گھر جاچکی ہے، بعدازاں سوئمنگ پول کے مالک نے بتایا کہ وہ پانی میں ڈوب گئی جسے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ماریہ کو انصاف دلانے کا ٹرینڈ چلایا جا رہا ہے اور صارفین نھی بچی کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں۔