ملک بھر میں جہاں طوفانی بارشوں کے بعد آبادی والے علاقوں کو نقصان پہنچا وہیں قبرستانوں کا بھی برا حال ہوا۔ کئی قبرستاوں میں سیلاب کا پانی داخل ہوا جس کے باعث قبریں متاثر ہوئیں۔ ایسے میں کئی بار معاملہ یہ بھی پیش آتا ہے کہ قبروں سے لاشیں باہر آجاتی ہیں جنہیں واپس دفنا دیا جاتا ہے۔
ایسا ہی ایک وائرل پوسٹ کے بارے میں ہم آج کو بتائیں گے کہ ایک مشہور عالم دین شیخ الحدیث مولانا بزرجمہر المعروف (صاحب حق صیب) مدرس جامعہ اسلامیہ تفہیم القران جن کا تعلق مردان سے تھا، کہا یہ جا رہا ہے کہ حالیہ بارشوں کی وجہ سے ان قبر مبارک کھل گئی اور یہ پھر حیران کن لمحہ دیکھا گیا کہ ان کا جسم ایک دم ترو تازہ حالت میں پایا گیا کہ جیسے سو رہے ہوں۔
عالم دین شیخ الحدیث مولانا بزرجمہر المعروف کے حوالے سے پوسٹ کئی سوشل میڈیا پیجز پر شئیر کی گئی ہیں۔ مذکورہ پوسٹ ' کیا آپ جانتے ہیں' سوشل میڈیا پیج سے لی گئی ہے۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا کہ تقریباً 2 سال بعد حضرت شیخ صاحب کی لاش بالکل تر و تازہ پائی گئی یہ ہوتی ہے۔
شیخ الحدیث مولانا بزرجمہر المعروف کی وفات کے حوالے سے ایک پوسٹ سوشل میڈیا صارف کی جانب سے 28 نومبر 2020 کو شئیر کی گئی تھی۔
صارفین شیخ صاحب مرحوم کی آج بھی ایسی حالت کو دیکھ کر یہ کہہ رہے ہیں کہ خدا ایسے پارسا اور عظیم لوگوں کو ہر حال میں محفوظ رکھتا ہے۔
اس وائرل پوسٹ کی حقیقت کیا ہے؟
اس پوسٹ کے بارے میں جہاں لوگوں نے یہ کہا کہ واقعی یہ ایک قدرت کا بہترین کام ہے تو وہیں کچھ افراد اس پوسٹ کو سچ ماننے سے انکار کر رہے ہیں۔ اسی حوالے سے ایک اور پوسٹ سامنے آئی جس کے کیپشن میں لکھا تھا کہ فیسبک پر بعض لوگوں کی جانب سے یہ تصویر پھیلائی جارہی ہے کہ شیخ صاحب کی میت دو سال بعد ویسی ہی ہے، اور ساتھ یہ تصویر بھی لگائی گئی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میت کو تو قبر سے نکالا ہی نہیں گیا تھا بلکہ قبر کو پھر سے ٹھیک کیا گیا تھا اور یہ تصویر پشاور کے ایک اسپتال میں لی گئی تھی۔ جبکہ وہ حیات تھے اور بیماری کی وجہ سے اسپتال میں داخل تھے۔ پوسٹ میں مزید لکھا ہے کہ شیخ صاحب کے بیٹے نے بھی یہی بتایا ہے کہ یہ تصویر حقیقت نہیں ہے۔ کسی نے ایڈیٹ کرکے وائرل کی ہے۔