زمین میں سے پانی نکلنے لگا تو جسد خاکی کو دوسرے قبرستان لے گئے ۔۔ کن کے رشتہ دار کی قبر پر حملہ ہو گیا؟ مشہور شخصیات کے لیے تکلیف دہ لمحات

image

مشہور شخصیات کی زندگی اگرچہ مقبولیت کی حد کو چھو رہی ہوتی ہے مگر کئی مرتبہ ان سے متعلق کچھ ایسی معلومات سامنے آتی ہیں جو کہ سب کو افسردہ بھی کر دیتی ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

عمران خان:

سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے لیے وہ وقت انتہائی تکلیف دہ تھا جب ان کی والدہ کی قبر کے کچھ حصے کو توڑے کی کوشش کی گئی۔

لاہور میں واقع قبرستان میں ان کی والدہ کی قبر کے کچھ حصے کو غیر قانونی تصور کر کے مسمار کیا جا رہا تھا، تاہم اس خبر نے سب کی توجہ حاصل کی جس کے بعد معاملات تھم گئے۔ دوسری جانب کچھ سیاسی بازگشت یہ بھی تھی کہ عمران خان سے سیاسی انتقال لینے کے لیے یہ عمل کیا گیا۔

شہباز شریف:

وزیر اعظم شہباز شریف کی والدہ اور والد تو پاکستان میں ہی جاتی امراء میں مدفون ہیں۔ لیکن شہباز شریف کے دادا پاکستان اور بھارت کے بارڈر کے پاس موجود بھارتی گاؤں جاتی امراء میں مدفون ہیں، ان کی قبر آج بھی وہاں موجود ہے۔

تاہم بھارتی انتہا پسند شہباز شریف کے دادا کی بے حرمتی کی کوشش بھی کر چکے ہیں، مقامی حکومت کی جانب سے قبر کی حفاظت کے لیے اقدامات بھی کیے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہے جس میں قبر پر موجود چادر کو ہٹا دیا گیا تھا اور پاکستانی پرچم کی بھی بے حرمتی کی گئی تھی۔

یہ مناظر شریف فیملی کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہوتے ہیں، جبکہ شہباز شریف بھی دادا کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے بھارت جا چکے ہیں۔

جنرل ضیاء الحق:

سابق آرمی چیف جنرل ضیاء الحق کا شمار ان چند مسلم لیڈرز میں ہوتا تھا جنہوں نے پاکستان کے حوالے سے اور شرعی قوانین کے حوالے سے توجہ حاصل کی۔ جنرل ضیاء الحق کے والد کی قبر نوتھیا قبرستان میں موجود تھی تاہم اب کے جسد خاکی کو اس قبرستان سے آبائی قبرستان زیارت غازی ولی محمد قبرستان متنقل کر دیا گیا۔

اہل خانہ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اُس قبرستان میں زمین سے نکلنے والا پانی قبروں کو خراب کر رہا تھا، جس کی وجہ سے خدشہ تھا والد کی قبر بھی متاثر ہوتی۔

شعیب اختر:

سابق فاسٹ بالر اور پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کے نامور کھلاڑی شعیب اختر جو کہ روالپنڈی ایکسپریس کے نام سے جانے جاتے ہیں، دنیا ان کی دیوانی تھی لیکن شعیب اپنے والدین کے دیوانے تھے۔

شعیب اس وقت افسردہ تھے جب ان کی والدہ کا انتقال ہوا، ماں کے قریب ہونے کی وجہ سے انہیں تکلیف بھی زیادہ ہوئی تھی، شعیب کی والدہ 2021 میں جہان فانی سے کوچ کر گئی تھیں

لیکن ان کی والدہ کی قبر چونکہ کچی تھی، تو خطرہ تھا کہ کہیں بارش کا پانی قبر کو نقصان نہ پہنچائے، تو شعیب نے خود اپنی نگرانی میں والدہ کی قبر پر پلاسٹک کی شیٹ ڈلوائی، جس سے بارش کا پانی قبر کو نقصان نہیں پہنچا پا رہا ہے۔ پانی سے بچانے کے لیے شعیب نے ہر وہ کام کیا جس سے والدہ کی قبر کو پانی سے بچایا جا سکے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US