بابا کو دیکھ کر سیلوٹ کیا تو بابا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔۔ پاک فوج کی کامیاب خواتین کے بارے میں دلچسپ معلومات

image

پاکستانی فوج کی خواتین بھی مرد جوانوں کے شانہ بشانہ نظر آتی ہیں، چاہے تکنیکی کام ہوں یا پھر عالمی مشن ہر محاز پر خواتین بھی اپنی اہمیت اجاگر کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو چند ایسی ہی خواتین فوجی افسران کے بارے میں بتائیں گے۔

پی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے پاکستان نیوی کی سب لیفٹینینٹ شمائلہ گل نایاب کا کہنا تھا کہ میرا بیک گراؤنڈ آرمی سے نہیں ہے، والدہ نے آرمی میں آنے کے لیے حوصلہ بڑھایا، میں اپنی فیملی کی پہلی لڑکی ہوں جو آرمی کا حصہ ہے۔

اسی طرح فلائنگ آفیسر امبرین گُل کا تعلق خواتین ہوا بازوں کے ان بیچ سے ہے جنہیں یہ منفرد اعزاز حاصل ہے، جن کا شمار مادر وطن کے جانباز شاہینوں میں ہوا۔ فلائنگ آفیسر کا کہنا تھا کہ میری ہمیشہ سے یہ خواہش رہی تھی کہ میں کوئی منفرد کام کروں، میں شکر گزار ہوں پاکستان ائیر فورس کی جس نے مجھے یہ اعزاز دیا، میرے خاندان میں بھی کوئی آرمی سے تعلق نہیں رکھتا ہے۔

میجر سامعیہ رحمان پاکستان فوج حاضر سروس آفیسر ہیں وہ خواتین کے لیے ایک جیتی جاگتی مثال ہیں۔ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ میجر سامعیہ رحمان نے اقوام متحدہ کے امن مشن میں بھی اپنی خدمات پیش کی ہیں۔

بلیو ہیلمٹ کے بینر تلے میجر سامعیہ رحمان اقوام متحدہ کے کئی پراجیکٹس میں جو کہ مختلف ممالک میں ہوئے ہیں، ذمہ داریاں کامیابی سے نبھا چکی ہیں۔

افریقی ملک کانگو میں بھی میجر اپنی ذمہ داریاں نبھا چکی ہیں، یہ بات بھی بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ میجر سامعیہ رحمان نے عالمی سطح پر خصوصی نمائندہ برائے سیکریٹری جنرل سال 2019 اپنے نام کیا ہے۔ یہ ان کی ایک بہت بڑی کامیابی تھی جس نے پورے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا تھا۔ کیونکہ اس سے پہلے خواتین کے حوالے سے پاکستان کو منفی طور پر بھی دیکھا جاتا تھا۔

میجر سامعیہ جب اقوام متحدہ کے مشن پر تھیں تو وہ اپنی بیٹی کو بے حد یاد کیا کرتی تھیں، وہ کہتی ہیں کہ میری ڈیوٹی 6 اپریل کو ختم ہونا تھی، مگر کرونا کی صورتحال کی وجہ سے میں گھر نہ پہنچ سکی تھی۔ میری دو سال کی بیٹی مجھ سے کہتی تھی کہ ماما آپ کب واپس آئیں گی، میں پریشان ہو رہی ہوں، وہ بتاتی ہیں کہ کام کے لیے میرا جنون مزید بڑھ گیا اور اس مصیبت کا مقابلہ ہم مل کر ہی کر سکتے ہیں۔

پاکستان نیوی میں بطور کموڈو اپنی ذمہ داریاں نبھانے والے عارف سعید ایک فرض شناس اور اصول پسند آفیسر ہیں۔ وہ ویسے تو کافی سخت مزاج ہیں لیکن جب بیٹی نے باپ کو آکر سلیوٹ کیا تو باپ کی آنکھوں سے آنسوں چھلک گئے تھے۔ کموڈو عارف سعید کی بیٹی رشنا عارف بھی سب لیفٹینینٹ ہیں۔ والد کہتے ہیں کہ یہ سب اللہ کی مرضی تھی جو بیٹی نیوی میں آئی۔ بیٹی ہیشہ مجھے خدا حافظ کہنے کے لیے آتی تھی، لیکن آج جب بیٹی نے مجھے سیلوٹ کیا تو مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ رشنا نے میری خواہش پوری کر دی ہے۔ جب بیٹی نے مجھے سیلوٹ کیا، تو وہ موقع میرے لیے کافی بڑا تھا۔

والد کہتے ہیں کہ چوکہ میں چوپر پائلٹ ہوں، اور وہ کور آل پہنتے تھے، اس کور آپ کی جو بیرٹ ہوتی تھی، وہ بیٹی پہنا کرتی تھی۔ اسی طرح سیلوٹ کرتی تھی، شاید وہی وہ قبولیت کا موقع تھا۔ جبکہ رشنا کہتی ہیں کہ چونکہ ابو میرے سینئیر بھی ہیں، لیکن مجھے سب سے زیادہ ڈر سینئیر کا ہوتا ہے۔ جب بابا سینئیرز کو سیلوٹ کرتے تھے، وہ منظر مجھے بے حد پسند تھا، اسی لیے میں نے تہیہ کر لیا تھا کہ والد کو سیلوٹ کرنا ہے۔ اور جب والد گھر آتے یا گھر سے جاتے تھے، تو میں سیلوٹ کرتی تھی۔

نیوی جوائن کرنے میں والد نے بے حد سپورٹ کیا تھا، ٹریننگ میں بھی والد بھرپور حوصلہ دیا تھا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US