عامر لیاقت کی موت آج بھی ایک معمہ ہے۔ بشریٰ اقبال نے شوہر کی میت کی بے دردی ہونے سے بچانے کے لئے ان کا پوسٹ مارٹم کروانے سے منع کردیا تھا اور کورٹ میں اس پر کیس بھی جیتا۔ لیکن اب ایف آئی نے دانیہ شاہ کو گرفتار کیا تو ان کی والدہ نے بشریٰ اقبال اور بچوں پر ایسے سنگین الزامات لگا دیے کہ اگر مزید کیس کی تفتیش نہیں کی گئی تو گتھی سلجھنے کے بجائے اور زیادہ الجھ جائے گی۔
دانیہ کی والدہ
سلمیٰ بی بی نے کہا کہ: میری بیٹی بیوہ ہے اور حق دار ہے ہم شروع سے اس بات پر قائم ہیں کہ عامر لیاقت کا قتل ہوا ہے پوسٹ مارٹم کروائیں، بشریٰ کیوں روک رہی ہے؟ ہم عامر کے مرنے کی وجہ پوچھ رہے ہیں اور یہ لوگ ہم پر کیس کر رہے ہیں؟ ایف آئی اے نے ہم پر کیس کیا، لودھراں پولیس اور ایف آئی اے کے 10 لوگ تھے جنہوں نے میرا ہاتھ بھی توڑا، میری بچی کو مارا، بغیر دوپٹے اور جوتی کے بچی کو گاڑی میں لودھراں سے کراچی لے آئے۔
بُشریٰ کہہ رہی ہے کہ عامر کی کوئی پراپرٹی نہیں ہے وہ سب کچھ بیچ گیا مگر عامر کی اربوں کی پراپرٹی ہے، اس کے قتل کی کارروائی ہونی چاہیے اور جو جرم میں شامل نکلے اس کے خلاف سنگین کارروائی ہونی چاہیے۔
الزامات لگاتے ہوئے مزید کہا کہ: عامر کے بیٹے کو غسل کے وقت باپ کے قتل کا پتا چل گیا تھا اس لیے وہ بھاگ گیا۔ کیونکہ اسے پتا چل گیا تھا میرے باپ کا قتل ہوا ہے اور میری ماں اس قتل کو چھپا رہی ہیں۔
’ہم نے درخواست دائر کی تھی لیکن خلع نہیں ہوئی تھی 5 جون کو ہماری صلح ہوگئی تھی جس کی ویڈیو کا الزام لگا وہ فوت ہوچکا ہے اب کسی کو یہ حق نہیں ملتا کہ وہ کیس کرے۔ بشریٰ اور اس کے بچوں پر اللہ کا قہر پڑے گا۔ وہ بھی بیٹی والی ہے اس کے بچے بھی رسواء ہوں گے۔