سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات سے متعلق دلچسپ معلومات تو بہت ہیں، لیکن کچھ ایسی ہوتی ہیں جو کہ سب کو حیرت میں بھی مبتلا کر دیتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
حنا دلپزیر:
پاکستانی اداکارہ حنا دلپزیر بھی اپنے چلبلے انداز اور صلاحیتوں کی بنا پر ہوتا ہے۔ تاہم حنا دلپزیر نے اپنی زندگی میں ایسی کئی چیزیں دیکھی ہیں، جس نے انہیں ایک کامیاب اداکارہ بنا دیا ہے۔
اداکارہ کی شادی 1997 میں ہوئی تھی، تاہم ان کی شادی کچھ عرصے ہی چل سکی اور طلاق پر اختتام پذیر ہو گئی۔ایک انٹرویو میں حنا دلپزیر نے بتایا تھا کہ جب ان کی اپنے شوہر سے طلاق ہوئی تب انہوں نے اکیلے اپنے تین سالہ بیٹے کو پالا تھا۔ اداکارہ نے بتایا تھا کہ ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں تھا نہ ہی میرا شوہر کوئی برا انسان تھا، میری نیک خواہشات سابق شوہر کے ساتھ ہیں۔ حنا دلپذیر کا مزید کہنا تھا کہ انہیں کسی قسم کا غصہ نہیں ہے کہ یہ ہوگیا تو میں وہ کردوں گی، انہیں اپنے سابق شوہر سے کوئی شکایت نہیں ہے۔
حنا صدمے میں تھیں مگر اپنے آپ کو اور بیٹے کو سنبھالنے میں کامیاب رہی ہیں۔ حنا نے طلاق کے بعد خود محنت کر کے اپنے آپ کو مضبوط بنایا ہے۔ جبکہ وہ اہنے شوہر کے لیے بھی نیک تمنائے رکھتی ہیں۔
پرویز الٰہی:
پاکستان کی سیاست میں چوہدری برادران کا ایک کلیدی کردار ہے، پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی کرسی کو بڑے ہی قریب سے دیکھنے والے چوہدری برادران کا شمار ان چند سیاستدانوں میں ہوتا ہے جو کہ ہر حکومت میں اپنی اہمیت کا جادو جگا دیتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں چودھری شجاعت اور پرویز الٰہی کے درمیان اختلافات نے سب کو حیران تو کیا ہی لیکن پرویز الٰہی کے بیانیے کو عوام نے بے حد سراہا ہے جب ہی لاہور، سیالکوٹ سمیت پنجاب کے بیشتر شہروں میں شہریوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر خوشی منائی۔
دوسری جانب چودھری پرویز الٰہی رائیونڈ میں ہونے والے تبلیغی اجتماع میں بھی شرکت کرتے ہیں، ان کی اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پرویز الٰہی، ان کے بیٹے اور پوتے بھی اجتماع میں موجود ہیں۔ سر پر ٹوپی پہنے چودھری پرویز الٰہی اطمینان کے ساتھ بیان سُن رہے ہیں۔
جبکہ بہن کی بیٹی کے انتقال پر پرویز الٰہی افسردہ ہو گئے تھے، کیونکہ وہ انہیں اپنی بیٹی ہی کی طرح پیار کرتے تھے۔
عامر لیاقت حسین:
مشہور ہوسٹ اور سیاست دان عامر لیاقت حسین کے اپنے لیے قبر کی جگہ عبداللہ شاہ غازی کے احاطے میں متعین کی تھی، تاہم اس جگہ ان کے والدین کے ساتھ ان کے ساس سسر کی قبریں بھی موجود ہیں۔
چونکہ عامر کے ساس کا انتقال ان سے پہلے ہو گیا تھا، اور عامر نے اسی جگہ ان کے لیے بھی قبر بنوائی، یوں اس طرح ایک طرف عامر کی والدہ اور دوسری طرف ان کی ساس مدفون ہیں۔
عامر کی محبت کا انداز اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ والد کی جگہ سمجھنے والے عامر نے اپنے سُسر کو غُسل خانہ کعبہ کے پانی سے دیا تھا، عامر نے بتایا کہ جس پانی سے خانہ کعبہ کو غسل دیا گیا تھا، میں وہاں گیا تھا اور وہ پانی ساتھ لایا تھا، اس طرح سُسر کو خانہ کعبہ کے پانی سے غسل دیا گیا۔
دلیپ کمار:
مشہور اداکار دلیپ کمار کا شمار ہند کے مشہور اور مقبول ترین پرستاروں میں ہوا کرتا تھا۔ تاہم ان کی زندگی میں شہرت، مقبولیت کے ساتھ ساتھ ایک ایسا واقعہ بھی سب کی توجہ حاصل کر گیا تھا، جس نے مداحوں کو افسردہ کیا۔
دلیپ کمار اُس وقت بے انتہا خوش تھے، جب وہ والد بننے والے تھے، سائرہ امید سے تھیں، پہلے بچے کو خوش آمدید کہنے کے لیے بے تاب تھے، تاہم سائرہ بانو 8 ماہ کے حمل کے دوران ہی گر گئی تھیں، جس کے بعد بچہ بھی ضائع ہوا اور یہ خبر بھی آ گئی کہ اب وہ کبھی ماں نہیں بن سکیں گی۔
اداکار نے بچے کی خاطر دوسری شادی بھی کی تھی، تاہم انہیں سائرہ کے بغیر سکون نہیں مل رہا تھا، تب ہی وہ واپس سائرہ کے پاس آ گئے۔
سنبل شاہد:
سنبل شاہد کا شمار ان چند اداکاراؤں میں ہوتا تھا، جو کہ سنجیدہ اور مزاحیہ ہر کردار کو نبھانا بخوبی جانتی ہیں۔
تاہم سنبل اُس وقت شدید افسردہ ہو گئی تھیں، جب ان کا جواں سال بیٹا انتقال کر گیا تھا۔ جواں سال بیٹا پیراگلائیڈنگ کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہو گیا تھا اور جہان فانی سے کوچ کر گیا تھا۔
جس کے بعد سنبل پر بیٹے کی موت کا کافی گہرا اثر ہوا تھا، گزشتہ سال وہ کرونا میں مبتلا ہوئی تھیں، اور وہ بھی اللہ کو پیاری ہو گئی تھیں۔
شگفتہ اعجاز:
شگفتہ اعجاز پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اور سینئر ترین اداکارہ ہیں، جنہوں نے اپنے دلچسپ انداز اور صلاحیتوں کی بنا پر سب کی توجہ حاصل کی۔
اداکارہ اگرچہ اپنی بیٹیوں سے بے انتہا محبت کرتی ہیں، اور بیٹا پیدا نہ ہونے پر کوئی شکوہ نہیں کرتی ہیں، لیکن وہ اُس وقت افسردہ ہو گئیں تھیں، جب ان کی والدہ کا انتقال ہوا تھا۔
والدہ کے انتقال کے بعد شگفتہ اعجاز کافی خاموش بھی ہو گئی تھیں اور والدہ کے لیے خوب ڈھیر ساری دعائیں بھی کرتی رہتی ہیں۔ لیکن جب وہ بیمار تھیں، تو انہیں یہ بات ضرور مطمئن کرتی ہیں، کہ انہوں نے اپنی والدہ کی خوب خدمت کی، یہاں تک کہ انہیں اپنے ہاتھوں سے کھانا بھی کھلایا۔