سوشل میڈیا پر اکثر مشہور شخصیات سے متعلق کچھ ایسی معلومات موجود ہیں، جو کہ سب کو حیران کر ہی دیتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو انہی چند شخصیات سے متعلق بتائیں گے۔
محمود الرشید:
مشہور پاکستانی سیاست دان اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما محمود الرشید کے جوان بیٹے بھی اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔
مشہور سیاست دان نے جب بیٹے نے جنازے کو کندھا دیا، تو خود بھی اشکبار تھے، کیونکہ والد کے لیے بیٹے کی موت کا غم سہنا برداشت نہیں ہو رہا تھا لیکن ہمت اور حوصلہ کم نہ ہوا۔
20 سالہ بیٹا برین ہیمرج کی وجہ سے جہان فانی سے کوچ کر گیا تھا۔
جگجیت سنگھ:
مشہور بھارتی گلوکار اور غزل گائیک جگجیت سنگھ کا شمار ان چند مشہور گلوکاروں میں ہوتا تھا جنہوں نے پاکستان میں بھی خوب توجہ حاصل کی۔
ایک شادی شدہ خاتون سے شادی کرنے والے جگجیت سنگھ نے آخری وقت تک اہلیہ کا ساتھ نہیں چھوڑ، یہاں تک کہ جب ان کا اپنا جوان بیٹا موت کا شکار ہوا تو اہلیہ کو بھی سنبھالا اور اپنی سوتیلی بیٹی یعنی چترا سنگھ کی پہلی شادی سے ہونے والے اولاد کا بھی خیال رکھا۔
لیکن سوتیلی بیٹی نے بھی خودکشی کرلی جس کے بعد خود بھی جگجیت سنگھ ٹوٹ چکے تھے، لیکن وہ اپنے جذبات کا اظہار آنسوؤں کے ذریعے کرنے کے بجائے اپنی غزل کے ذریعے کرتے تھے۔
شہلا رضا:
مشہور پاکستانی سیاست دان اور خواتین کے لیے مشعل راہ، شہلا رضا جو کہ کراچی کی سیاست میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
ان کی زندگی میں وہ وقت آیا تھا جب ان کی زندگی مکمل طور پر تبدیل ہو گئی، وہ وقت جب ان کے بچے بیٹا اور بیٹی ایک حادثے کا شکار ہوئے تو دونوں جہان فانی سے کوچ کر گئے تھے۔
ایسے میں شہلا رضا کے لیے یہ بہت بڑا صدمہ تھا، جب ان کی اولاد ان سے دور ہو گئی تھی، لیکن ہمت اور حوصلے کی ایسی مثال جو کبھی دیکھنے کو نہ ملی، شہلا اگرچہ بچوں کو یاد کر کے اشکبار ضرور ہو جاتی ہیں، لیکن اپنے اللہ پر سے بھروسہ اور امید نہیں ٹوٹنے دیتی ہیں۔
ڈاکٹر یاسمین راشد:
ڈاکٹر یاسمین راشد کا ایک انٹرویو کافی وائرل ہے جس میں اپنے گھر سے متعلق بتا رہی ہیں۔ یہ انٹرویو انہوں نے ٹی سی ایم کو دیا تھا۔
اپنے گھر سے متعلق ڈاکٹر یاسمین راشد بتاتی ہیں کہ میرے شوہر سول کارپوریشن میں کام کرتے تھے، اور یہاں سول کارپوریشن کی کالونی تھی، 1997 میں ہم نے 6 سے 7 ہزار میں یہ پلاٹ خریدا تھا۔
جبکہ اس پلاٹ پر گھر کی تعمیر 1989 میں شروع کی، ہمارے علاوہ یہاں ایک اور گھر تھا، صرف ہم دو گھر والے یہاں تھے باقی یہ پورا علاقہ جنگل تھا۔
وہ بتاتی ہیں کہ جب لوگ مجھ سے پوچھتے تھے کہ تم نے اتنا دور گھر کیوں بنا لیا، تو میں کہتی تھی کہ میرے پاس تو وہی ایک گھر تھا۔ گھر کی تعمیر شروع ہو گئی تھی لیکن اس وقت یاسمین راشد ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتی تھیں، جہاں یا تو ایک انسان گھر بنا سکتا ہے، یا زندگی کے دوسرے کاموں پر پیسہ لگا سکتا ہے۔
یہی وجہ تھی کہ آدھا گھر بن چکا تھا، مگر پھر کام رک گیا، جب یاسمین راشد کی سہیلیاں آتیں، دیکھتی اور کہتی کہ یہ جو اسٹرکچر کھڑا کیا ہے، یہ گر جائے گا، جس پر یاسمین راشد نے کہا کہ پیسے ہی نہیں ہیں، کہاں سے پورا کروں۔
میری سہیلیوں نے کہا کہ ہم تمہیں قرضہ دیں گے، ڈاکٹر جویریہ نے مجھے 50 ہزار روپے دیے، میری سہیلیوں نے مجھے قرضہ دیا اور میں گھر کا حصہ تیار کیا۔ اگرچہ میں اس وقت گائناکالوجسٹ تھی اور کما رہی تھی، مگر اس وقت بچے تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
بچوں کی تعلیمی اخراجات میں پھر بیلنس کرنا پڑتا تھا کہ گھر مکمل کرنا ہے یا بچوں کو پڑھانا ہے۔ یہاں تک کے بیٹی کی شادی ہو رہی تھی اور ہمارا گھر تیار نہیں تھا، اوپر کا حصہ تیار تھا لیکن نیچے کا حصہ تیار نہیں تھا۔
بیگم کلثوم نواز:
پاکستان مسلم لیگ ن کی اہم ترین خاتون رہنما جنہوں نے آخری وقت تک چہرے پر مسکراہٹ لیے تمام تر مشکلات کو برداشت کیا، یہاں تک کہ شوہر بھی پاس نہیں ہوتا تھا، لیکن اس سب کے باوجود بیگم کلثوم نواز ڈٹ کر ہر مشکل کا مقابلہ کرتی دکھائی دیں۔
وہ وقت جب نواز شریف پابند سلاسل ہو گئے تھے اور ن لیگ کے رہنما بھی گرفتار ہو رہے تھے، ایسے میں بیگم کلثوم نواز نے وہ کر دکھایا تھا، جو کہ شاید کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، اپنے شوہر کو بچانے اور ان کی آواز بننے کے لیے وہ گھر کی چار دیواری سے باہر نکل گئی تھیں۔
بیگم کلثوم کو کار سمیت پولیس نے اٹھا لیا تھا، حالانکہ وہ کار میں موجود تھیں، ان کی اس جرات اور بہادری کو آج تک خواتین اور پاکستانی قوم یاد کرتی ہے۔
مولانا طارق جمیل:
مشہور مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل کو وہ وقت آج بھی یاد ہے، جب ان کے والد نے انہیں گھر سے نکال دیا تھا۔
اپنے ایک بیان کے دوران انہوں نے اس واقعے کا ذکر بھی کیا تھا، ہفتے کے دن 23 نومبر 1972 کے 9 بجے، وہ واقعہ آج بھی میرے دل میں نقش ہے، جب میرے والد یہ کہہ کر مجھے گھر سے نکالا کہ چلے جاؤ، اگر تمہیں اسکالر بننا ہے۔
مولانا طارق جمیل اس واقعے اور آقائے دو جہاں ﷺ کی اسوہ حسنہ کو بیان کرتے ہوئے خود بھی جذباتی ہو گئے تھے۔