وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف کی اعلیٰ انتظامیہ سے مختلف ملاقاتیں کیں جن میں پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال، جاری اصلاحاتی پروگرام اور مستقبل کی اقتصادی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کے فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ڈین کٹز، ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک، مشرق وسطیٰ و وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد ازور اور پاکستان کے لیے آئی ایم ایف مشن چیف ایوا پیٹرووا سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
ملاقاتوں کے دوران پاکستان کے لیے جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی، ریزیلیئنس اینڈ سسٹینبیلٹی فیسلٹی اور آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف حکام کو ملکی معیشت میں بہتری، بیرونی شعبے کے استحکام، محصولات کے اہداف، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے، ریکارڈ ترسیلاتِ زر اور کرنٹ اکاؤنٹ کی مثبت صورتحال سے آگاہ کیا۔
گفتگو کے دوران ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے میں بہتری، نجکاری، ٹیرف ریشنلائزیشن، قرضوں کے مؤثر انتظام، مالیاتی ذرائع میں تنوع اور عالمی کیپٹل مارکیٹوں میں پاکستان کی واپسی سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے۔
دونوں فریقوں نے انسانی وسائل کی ترقی، خواتین کی معاشی شمولیت، آبادی سے متعلق چیلنجز، ٹیکنالوجی پر مبنی اقتصادی ترقی اور نجی شعبے کی قیادت میں برآمدات کے فروغ کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
وزیر خزانہ نے پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے اور آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد کی پیش رفت کے اعتراف پر فنڈ انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مالیاتی نظم و ضبط، پالیسیوں کے تسلسل، ساختی اصلاحات اور طویل المدتی اقتصادی استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔