پاکستان نے حوثی گروہ کو خبردار کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا پاکستان کے بحری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔
آبنائے باب المندب تقریباً 36 کلومیٹر چوڑی ہے اور بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہےبحیرہ احمر میں سعودی ٹینکر پر حوثی حملے کی اطلاعات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی ایرانی قیادت سے حوثیوں سمیت تمام ’علاقائی پیش رفت‘ پر گفتگو ہوتی ہے۔
پاکستان کی جانب سے یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروہ کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ بحیرہ احمر میں پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا پاکستان کے بحری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔
جمعرات کو جب بی بی سی نے پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی سے پوچھا کہ کیا پاکستان نے حوثیوں کے حوالے سے اپنے تحفظات سے ان کے اتحادی ایران آگاہ کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ: ’بالکل، آپ کو معلوم ہے کہ جب ہم علاقائی پیش رفت پر بات چیت کرتے ہیں تو تمام علاقائی مسائل پر گفتگو ہوتی ہے۔ میرے لیے اس معاملے پر گفتگو کوئی حیرانی کی بات نہیں ہوگی۔‘
’اس بات چیت کی نوعیت اور تفصیلات، ظاہر ہے دونوں ریاستوں کے درمیان رازداری کے تقاضوں کے تابع ہیں۔‘
خیال رہے ایران کے اتحادیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں ایک اہم بحری راستے کے خلاف دی گئی دھمکیوں نے عالمی تجارت پر مزید اثرات کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
ایران کی جانب سے پہلے ہی آبنائے ہرمز کو بند کیے جانے کی وجہ سے خلیج فارس سے بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ اب اس کے مشرقِ وسطیٰ میں موجود اہم اتحادی جزیرہ نما عرب کے دوسری جانب سمندر میں ایک اور محاذ کھولنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔
شمالی یمن پر کنٹرول رکھنے والے تہران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے امریکہ کے اتحادی سعودی عرب کے خلاف آبنائے باب المندب میں سمندری پابندی کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے کہ باب المندب ایک اہم آبی گزرگاہ ہے جو خلیج عدن کو بحیرۂ احمر سے ملاتی ہے۔ یہ راستہ نہر سویز تک جاتا ہے اور دنیا بھر میں سمندری راستے سے منتقل ہونے والے تقریباً 12 فیصد تیل کی ترسیل اسی کے ذریعے ہوتی ہے۔
20 جولائی 2026 کو حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ یہ اقدام حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر سعودی ناکہ بندی کے جواب میں کیا گیا ہے۔
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے جواب میں کہا کہ ملک ’بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے جہازوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔‘
یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے آبنائے باب المندب میں سعودی عرب کے خلاف سمندری پابندی کے اعلان نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پاکستان کے لیے بھی نئے سکیورٹی اور معاشی خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
اگر حوثی اس اہم بحری گزرگاہ پر حملے کرتے ہیں یا تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ ڈالتے ہیں تو اس کے اثرات عالمی تجارت کے ساتھ پاکستان تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
پاکستان کی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے پورا ہوتا ہے، جبکہ اس کی برآمدات اور درآمدات کا ایک اہم حصہ بھی اسی بحری راستے سے یورپ اور دیگر عالمی منڈیوں تک جاتا ہے۔
ایسے میں باب المندب میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں نہ صرف بحری تجارت کی لاگت، انشورنس پریمیم اور ترسیل کا وقت بڑھ سکتا ہے بلکہ پاکستانی پرچم بردار یا پاکستان سے منسلک تجارتی جہاز بھی خطرات کی زد میں آ سکتے ہیں۔

حوثیوں کی دھمکی پر پاکستان کا کیا موقف ہے؟
تاہم پاکستان نے حوثی گروہ کو خبردار کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا پاکستان کے بحری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔
پاکستانی دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے بحری مفادات کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات، بشمول قانون کے مطابق طاقت کے استعمال، کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘
بیان میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’ایسے اقدامات علاقائی سلامتی، جہاز رانی کی آزادی اور عالمی تجارت کے لیے خطرہ ہیں۔‘
دفترِ خارجہ نے سعودی عرب کے ساتھ قانونی تجارتی سرگرمیوں میں مصروف جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ ساتھ ہی تمام فریقوں پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کریں اور بحری جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
’پاکستان سعودی قیادت میں حوثیوں کے خلاف کسی ممکنہ فوجی کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے‘
پاکستان اور سعودی عرب نے گذشتہ برس ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے اسلام آباد ’اپنے دوطرفہ معاہدوں کے تحت کیے گئے تمام وعدوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کرے گا۔‘
جب ہفتہ وار بریفنگ کے دوران وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی سے پوچھا گیا کہ کیا بحیرۂ احمر اور باب المندب میں پاکستانی جہازوں کے تحفظ اور گذشتہ سال طے پانے والے دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے لیے کسی فوجی یا بحری تعیناتی ہوگی، تو ان کا کہنا تھا: ’یہ آپریشنل تفصیلات کا معاملہ ہے جس سے میں آگاہ نہیں ہوں۔‘
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان مستقبل میں بحیرہ احمر میں بھی متحرک نظر آئے گا؟
برمنگھم یونیورسٹی کے محقق اور مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر عمر کریم نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’حوثیوں کی حالیہ دھمکیوں کے تناظر میں پاکستان کو بحیرہ احمر میں اپنی بحری موجودگی بڑھانے اور مسلسل گشت کی ضرورت پیش آ سکتی ہے، تاہم اس کے باوجود جہاز رانی کو مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔‘
عمر کریم کے مطابق موجودہ صورتحال میں دو ممکنہ خدشات سامنے آتے ہیں۔ ایک یہ کہ حوثی کسی پاکستانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنا سکتے ہیں یا پھر سعودی بندرگاہ سے خام تیل لے کر نکلنے والے آئل ٹینکر حملے کی زد میں آ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر مستقبل میں پاکستانی پرچم تلے مزید جہاز چلنا شروع ہوتے ہیں تو یہ سوال بھی پیدا ہوگا کہ آیا وہ بھی انہی خطرات کی زد میں آئیں گے؟‘
انھوں نے کہا کہ ’حوثیوں کا مؤقف بظاہر ایک وسیع پیغام ہے کہ باب المندب سے گزرنے والی بحری جہاز رانی، بالخصوص سعودی خام تیل لے جانے والے جہاز، ان کے نشانے پر ہو سکتے ہیں۔‘
عمر کریم کے بقول ’حوثیوں کے پاس ایسے جہازوں پر میزائل یا ڈرون حملے کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں روک کر قبضے میں لینے کی بھی صلاحیت موجود ہے، جیسا کہ وہ ماضی میں کر چکے ہیں۔‘
پاکستان اور ایران کے تعلقات پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے عمر کریم نے کہا کہ ’پاکستان نے اس معاملے پر ایران سے رابطہ کیا ہوگا، تاہم تہران کی جانب سے مثبت جواب ملنے کا امکان کم تھا کیونکہ حوثیوں کو اس محاذ پر سرگرم کرنے کا فیصلہ ایران ہی کا تھا۔‘
ان کے مطابق ’اگر پاکستان حوثیوں کے خلاف مؤثر کردار ادا کرتا ہے تو اس سے پاکستان اور ایران کے درمیانتعلقات متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ ایران اسے اپنے اتحادی گروہ کے خلاف اقدام سمجھے گا اور پاکستان کو امریکی قیادت والے اتحاد کے قریب تصور کیا جائے گا۔‘
عمر کریم نے مزید کہا کہ ’پاکستان کا حالیہ مؤقف اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر مستقبل میں حوثی سعودی عرب پر دوبارہ حملے کرتے ہیں تو پاکستان سعودی قیادت میں حوثیوں کے خلاف کسی ممکنہ فوجی کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق یہ بیانات ایسی کسی ممکنہ شمولیت کی پیشگی تیاری کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں۔
کیا باب المندب کی بندش پاکستان کے لیے نیا توانائی بحران پیدا کر سکتی ہے؟
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کی وجہ سے جب آبنائے ہرمز کی گزرگاہ مال بردار اور تیل کے جہازوں کی آمد و رفت کے لیے بند ہوئی تو پاکستان میں تیل کی سپلائی کے لیے متبادل سمندری گزر گاہوں کا روٹ استعمال کیا گیا جس میں باب المندب اور فوجیرہ بندر گاہ شامل ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد پاکستان میں تیل کی سپلائی باب المندب اور فجیرہ سے جاری ہے۔ تیل کے شعبے اور اس صنعت سے وابستہ افراد کے مطابق باب المندب اتنا ہی اہم ہے جتنا آبنائے ہرمز اور اس کی بندش سے پاکستان میں تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں ایک مقامی تیل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اسد حسن نے بی بی سی اردو کے لیے صحافی تنویر ملک سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’پاکستان میں تقریباً 12 سے 14 تیل کے جہاز ہر مہینے باب المندب اور فجیرہ سے آرہے ہیں جن میں سے آدھے باب المندب کا راستہ اپنا رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر یہ گزرگاہ بند ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے پاکستان کی آدھی تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ سعودی عرب سے مغرب کی سمت سے یہ روٹ استعمال کر کے تیل کی سپلائی ہوتی ہے جو آٹھ دن میں پاکستان پہنچ جاتا ہے۔‘
اسد حسن نے بتایا کہ ’پاکستان کی تمام ریفائنریاں یہ خام تیل منگوا رہی ہیں۔‘ ان کے مطابق ’پارکو سات، نیشنل ریفائنری تین، پاکستان ریفائنری دو اور سنرجیکو ریفائنری دو کارگو منگواتی ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اگر خدا نخواستہ باب المندب بند ہو جاتا ہے تو پاکستان کو متبادل روٹس استعمال کرنا پڑے گا جو افریقہ سے ہو کر آئے گا جس میں سویز نہر والا روٹ بھی شامل ہے لیکن اس کے ذریعے یہ سپلائی 45 دن میں پاکستان پہنچے گی جس سے وقت کے ساتھ فریٹ پر بھی زیادہ خرچ آئے گا۔‘
اسد حسن کا مزید کہنا ہے کہ ’موجودہ حالات میں پاکستان خلیجی ریاستوں کے علاوہ نائجیریا، لیبیا اور امریکہ سے خام تیل منگوانے کے بارے میں سوچ رہا ہے تاکہ ملک میں انرجی سپلائی چین کو برقرار رکھا جا سکے۔‘
فائل فوٹویمن سنہ 2014 سے خانہ جنگی کا شکار ہے جب حوثیوں نے یمن کے دارالحکومت صنعا سے حکومت کو بے دخل کر دیا تھا۔
سنہ 2015 میں یہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب سعودی عرب کی قیادت میں عرب ممالک کے اتحاد نے حکومت کی عملداری بحال کرنے کے لیے مداخلت کی۔
اطلاعات کے مطابق اس جنگ میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق اس کے نتیجے میں دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک پیدا ہوا، جہاں 22 ملین سے زیادہ افراد کسی نہ کسی قسم کی امداد کے محتاج ہیں۔
لیکن کیا حوثی واقعی سعودی جہازوں کے لیے آبنائے باب المندب بند کر سکتے ہیں؟
لندن میں قائم تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس سے وابستہ فاریہ المسلمی نے بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں کے پاس ایسی عسکری صلاحیت موجود ہے جس سے وہ اس راستے پر خلل ڈال سکتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’حوثیوں کے پاس سمندری بارودی سرنگیں موجود ہیں اور گزشتہ چند برسوں میں انھوں نے سمندری ڈرونز کی اپنی صلاحیت بھی بڑھائی ہے۔‘
ان کے مطابق حوثی مکمل ناکہ بندی کو نافذ کیے بغیر مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔
فاریہ المسلمی کے مطابق ’انھیں صرف ایک ہدف کو نشانہ بنانا ہو گا۔ چاہے وہ علامتی نوعیت کا ہی کیوں نہ ہو۔ اس طرح انشورنس کمپنیوں، جہاز رانی کی کمپنیوں اور تیل فراہم کرنے والوں میں خدشات پیدا ہو جائیں گے۔ یہ لوگوں کو ان کی سوچ سے زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’جنگ کے بعد ایران کی حکمت عملی یہ ہے کہ امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کو نقصان پہنچایا جائے۔ وہ سب کو اس تنازع میں کھینچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
ایران اس سے قبل بھی ’دیگر محاذ کھولنے‘ کی دھمکی دے چکا ہے۔
یمن کے امور کے ماہر انور الانسی بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ حوثی سعودی عرب کو اس تنازع میں کھینچنے کے لیے تہران کی خواہشات کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
انور الانسی نے بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران اس کشیدگی میں اضافہ چاہتا ہے کیونکہ اس وقت اس کے پاس یہی واحد راستہ ہے۔ سعودی عرب نے اب تک تہران کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی سے گریز کیا ہے، لیکن اگر حوثی واقعی حملہ کرتے ہیں تو اپنے مفادات کے دفاع کے لیے سعودی عرب کو کارروائی کرنا پڑے گی۔‘
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’اس جنگ کا اصول واضح ہے، یا سب یا کوئی نہیں، اگر ہم تیل نہیں بیچیں گے تو کوئی اور بھی تیل نہیں بیچ سکے گا۔‘
باقر قالیباف نے مزید کہا کہ ’جس خطے میں ہم تیل فروخت نہیں کریں گے، وہاں کوئی اور بھی تیل فروخت نہیں کر سکے گا۔ اگر ہماری سلامتی یقینی نہیں بنائی جاتی تو کسی کی بھی سلامتی محفوظ نہیں رہے گی۔‘

باب المندب کی اہمیت
آبنائے باب المندب کا شمار دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں ہوتا ہے۔ یہ بحیرۂ احمر کے عرب جانب یمن اور افریقی جانب جبوتی اور اریٹیریا کے درمیان واقع ہے۔ بحرِ ہند اور خلیج عدن سے آنے والی بحری آمدورفت کو نہر سویز تک پہنچنے کے لیے اسی راستے سے گزرنا پڑتا ہے۔
115 کلومیٹر طویل اور 36 کلومیٹر چوڑی یہ آبنائے 1869 میں نہر سویز کے افتتاح کے بعد یورپ اور ایشیا کے درمیان مختصر ترین سمندری راستہ فراہم کیے جانے کے باعث یہ عالمی تجارت کا ایک لازم رابطہ بن گئی۔
بحیرۂ احمر کا یہ بحری راستہ اب دنیا کے مصروف ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے اور دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی بحری آمدورفت اسی راستے سے گزرتی ہے۔
دنیا بھر میں منتقل ہونے والے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل کا راستہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتا ہے تاہم ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے باعث یہ پہلے ہی عملی طور پر بند ہو چکی ہے۔ ایسے میں اگر آبنائے باب المندب بھی بند ہو جائے تو دنیا بھر میں تیل کی مزید 12 فیصد ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے ممالک سے مغربی منڈیوں کے لیے روانہ ہونے والے تقریباً 50 لاکھ بیرل تیل روزانہ اس راستے سے گزرتے ہیں۔
اس کے علاوہ دنیا بھر میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً آٹھ فیصد ترسیل بھی اس آبنائے سے ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے ایک اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔
آبنائے ہرمز کے مؤثر طور پر بند ہونے کے بعد عالمی تجارت میں بحیرۂ احمر کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
اس کی مثال سعودی عرب سے لی جا سکتی ہے جس نے سعودی تیل کی ترسیل کے لیے بندرگاہ ینبع سے باب المندب کو ایک اہم راہداری کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
ریاض اپنے مشرقی تیل کے ذخائر سے پائپ لائن کے ذریعے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل وہاں پہنچاتا ہے۔
خام تیل اور گیس کے علاوہ آبنائے باب المندب مشرق اور مغرب کے درمیان ایک اہم تجارتی رابطے کا بھی حصہ ہے، جہاں سے ہر روز درجنوں مال بردار جہاز گزرتے ہیں۔
اگر باب المندب بند ہوتا ہے تو اس کے اثرات کچھ ایسے ہی ہو سکتے ہیں جیسے 2021 میں دیکھنے میں آئے تھے جب پاناما کے پرچم تلے چلنے والا مال بردار جہاز ایور گیون ریت میں پھنس گیا تھا اور اس نے نہر سویز کو بند کر دیا تھا۔
اس واقعے کے باعث عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہوئی تھی جس سے اشیا کی ترسیل میں تاخیر ہوئی اور تیل سمیت مختلف مصنوعات کی نقل و حمل کی لاگت میں اضافہ ہو گیا تھا۔