پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ اور فون سروس کی بندش پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے اجتماعی سزا سے تعبیر کیا ہے۔
ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر میں گزشتہ تقریباً 40 روز سے فون اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے جس کے باعث انتخابی مہم چلانے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو وہاں محدود نوعیت کی پابندیاں قابلِ فہم ہو سکتی ہیں، تاہم پورے آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ بند کرنا عوام کو اجتماعی سزا دینے کا تاثر دیتا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدہ، پیپلز پارٹی کے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے سے قبل کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال کا بہترین حل ایک آزاد اور غیرجانبدار ٹروتھ کمیشن کا قیام ہے، جو اس بات کا بھی جائزہ لے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے یا نہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو انتخابات کی شفافیت اور ساکھ پر سوالات اٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال ماضی میں قبائلی علاقوں میں نافذ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) کی یاد دلاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلی کی نشستوں سے متعلق معاملات پارلیمانی فورم پر حل ہونے چاہییں تھے۔ اگر حکومت کے نزدیک کسی نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو کارروائی صرف ذمہ دار افراد کے خلاف ہونی چاہیے، نہ کہ پوری آبادی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔