مرد ریسلرز کی لڑائی تو سب کی توجہ خوب حاصل کر لیتی ہے، لیکن اگر ایسا ہو کہ خاتون ریسلر بھی مرد ریسلرز نے لڑنا شروع کرے تو؟ یہ صرف فلموں میں ہی ہوتا معلوم ہوتا ہے۔
مگر ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایک ایسی ہی خاتون ریسلر کے بارے میں بتائیں گے جس نے مردوں کو بھی چاروں خانے چت کر دیا۔
آزادی سے پہلے یعنی جب پاکستان اور بھارت ایک ہوا کرتے تھے، تو اس زمانے میں ایک خاتون ایسی بھی تھی جو کہ ایمازون آف علی گڑھ کے نام سے جانی جاتی تھی، اس خاتون نے دنیا بھر کی توجہ اپنے دلچسپ انداز اور منفرد عمل سے حاصل کی تھی۔
اترپردیش کے مسلمان گھرانے سے تعلق رکھنے والی حمیدہ بانو نے اس لیے سب کو حیران کیا کیونکہ حمیدہ بانو خاتون ریسلر تھیں، جنہوں ںے مرد ریسلروں کو بھی ہرا دیا تھا، اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ خود ریلسرز کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔
بہر حال 237 پاؤنڈز کی یہ خاتون محض 5 اعشاریہ 3 قد کی تھیں، تاہم جب میدان میں اترتی تو بڑے سے بڑا ریسلر بھی انہیں دیکھ کر ڈر جاتا تھا۔ مردوں جیسے ہاتھ پاؤں رکھنے والی حمیدہ بانو سے ہر دوسرا شخص ڈرتا تھا۔
تاہم حمیدہ بانو کا دلچسپ انداز اور خوش اخلاق رویہ بھی سب کی توجہ خوب سمیٹ لیتا تھا۔ گزشتہ دو پہلوانوں جس میں ہندو اور سکھ شامل تھا، کو شکست دینے کے بعد یہ خبر بھی سرگرم تھی کہ جو کوئی حمیدہ بانو کو ہرائے گا وہ اسی سے شادی کرے گی۔
اس خبر کے بعد اُس وقت کے مشہور ریسلر بابا پہلوان پہلے تو خوب ہنسے کہ اب مرد اس خاتون سے لڑیں گے، اور پھر فائٹ پر راضی ہو گئے، حد سے زیادہ پُر اعتماد دکھائی دیتے بابا پہلوان کے لیے مشکل اُس وقت کھڑی ہوئی جب حمیدہ بانو ان پر بھاری پڑنے لگی۔
ایسی صورتحال دیکھ کر مشکل مزید بڑھنے لگی اور انہی کی چال اور داؤ حمیدہ بابا پہلوان پر آزمانے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے حمیدہ بانو نے بابا پہلوان کو ہرا دیا۔
اس میچ سے پہلے بابا پہلوان نے بھی اعلان کیا تھا کہ اگر میں ہار گیا تو پہلوانی چھوڑ دوںگا، جبکہ حمیدہ نے کہا تھا کہ میں اسی پہلوان سے شادی کرلوںگی جو مجھے ہرائے گا۔ لیکن اس سب میں بابا پہلوان کے لیے شدید نقصان ہوا تھا کیونکہ وہ ایک خاتون پہلوان سے ہارے تھے۔