سنہ 1997میں اڑیسہ میں سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے خلاف سیکریٹریٹ کے سامنے ہونے والے ایک احتجاج کے دوران دھرمیندر پردھان پولیس کے لاٹھی چارج میں زخمی ہوئے تھے۔یہ احتجاج بھارتیہ جنتا پارٹی کے سٹوڈنٹ وِنگ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے جے بی پٹنائک کی حکومت کے خلاف کیا گیا تھا اور دھرمیندر پردھان اس احتجاج کی قیادت کر رہے تھے۔
انڈیا کے مستعفی ہونے والے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان ماضی میں خود بھی ایک بار نہ صرف امتحانی پرچہ لیک ہونے کے خلاف احتجاج کر چکے ہیں بلکہ اس دوران پولیس کے لاٹھی چارج میں زخمی بھیہوئے تھے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ اب ایک اور امتحانی پرچہ لیک ہونے کے معاملے پردھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس مطالبے کے حق میں احتجاج کرنے والے طلبہ بھی لاٹھی چارج میں زخمی ہوئے ہیں۔
2021 میں دی نیو انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والی ایک خبرپھر سے سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا میں گردش کر رہی ہے۔
اس خبر کے مطابق 1997 میں اڑیسہ میں سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے خلاف سیکریٹریٹ کے سامنے ہونے والے ایک احتجاج کے دوران دھرمیندر پردھان پولیس کے لاٹھی چارج میں زخمی ہوئے تھے۔
یہ احتجاج بھارتیہ جنتا پارٹی کے سٹوڈنٹ وِنگ ’اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد‘ (اے بی وی پی) نے جے بی پٹنائک کی حکومت کے خلاف کیا گیا تھا اور دھرمیندر پردھان اس احتجاج کی قیادت کر رہے تھے۔
اس واقعے کے 29 سال بعد 20 جولائی 2026 کو پولیس نے وزیرِ اعظم کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں پر پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران لاٹھی چارج کیا گیا۔ اس میں کئی مظاہرین زخمی ہوئے اور انھیں ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔
اس مظاہرے میں شریک پرشانت راوت نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ درست ہے۔
پرشانت راوت اس وقت بھونیشور کے علاقے پٹیا میں راجہ مدھوسودن دیو کالج کے صدر تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں اس وقت اے بی وی پی کی بھونیشور شاخ کا صدر تھا اور دھرمیندر پردھان تنظیم کے قومی جنرل سیکریٹری تھے۔‘
’مجھے درست تاریخ یاد نہیں، لیکن یہ غالباً جولائی 1997 کے تیسرے ہفتے کی بات ہے۔ دھرمیندر پردھان کی قیادت میں اے بی وی پی کے کارکن اسمبلی کے سامنے پلس ٹو (12ویں جماعت) کے سوالیہ پرچے کے لیک ہونے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’1988 سے 1997 کے درمیان تقریباً ہر سال سوالیہ پرچے لیک ہوتے تھے۔ اسی لیے ہم اس دور کو سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے کی دہائی کہتے تھے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کے اہلکاروں نے ہم پر سخت لاٹھی چارج کیا۔ اس میں ہمارے 64 کارکن زخمی ہوئے اور ہسپتال میں داخل کرائے گئے۔ زخمی ہونے والوں میں دھرمیندر پردھان بھی شامل تھے۔‘
طلبہ یونین کے انتخابات میں تیسرے نمبر پر
دھرمیندر پردھان کا سیاسی سفر 1980 کی دہائی میں طلبہ سیاست سے شروع ہوا تھا۔
وہ نوجوانی ہی میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) سے وابستہ ہو گئے تھے۔ بعد میں وہ تالچر کالج طلبہ یونین کے صدر منتخب ہوئے۔
اس کے بعد انھوں نے اے بی وی پی کے امیدوار کے طور پر اتکل یونیورسٹی طلبہ یونین کے صدر کے عہدے کا انتخاب بھی لڑا تاہم وہ ایس ایف آئی کے امیدوار اور موجودہ بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کے رہنما ارون ساہو سے ہار گئے۔
اس انتخاب میں دھرمیندر پردھان تیسرے نمبر پر رہے جبکہ سٹوڈنٹ جنتا پارٹی کے امیدوار سندھو جیوتی ترپاٹھی دوسرے نمبر پر آئے۔ تینوں امیدواروں کے درمیان ووٹوں کا فرق بہت کم تھا۔
دھرمیندر پردھان کے طالب علمی کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے سندھو جیوتی ترپاٹھی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دھرمیندر ایک عام طالب علم تھے۔ سچ یہ ہے کہ اے بی وی پی کی جانب سے صدارتی امیدوار نامزد ہونے سے پہلے کیمپس میں بہت کم لوگ انھیں جانتے تھے۔ تاہم اس وقت اتکل یونیورسٹی میں اے بی وی پی کافی مضبوط تنظیم تھی، جس کی وجہ سے انھیں اچھی تعداد میں ووٹ ملے تھے۔‘
سیاسی عروج
اتکل یونیورسٹی کے انتخابات میں شکست کے باوجود دھرمیندر کا سیاسی عروج جاری رہا۔ اپنی محنت اور لگن سے وہ بی جے پی کی طلبہ اور نوجوان تنظیموں میں کامیابی کی سیڑھی چڑھنے لگے۔
پردھان 1994 میں اے بی وی پی کے قومی جنرل سکریٹری بنے اور 1997 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ انھوں نے 2004 سے 2006 تک بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ بعد میں وہ بی جے پی کے قومی سطح پر جنرل سکریٹری بنے اور اس حیثیت میں انھوں نے کئی ریاستوں بشمول بہار پردیش، بہار اور ریاست کے انچارج کے طور پر پارٹی کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔
دھرمیندر پردھان کا سیاسی کیریئر سال 2000 میں شروع ہوا جب وہ پلہرہ اسمبلی کے حلقہ سے بی جے ڈی-بی جے پی اتحاد کے امیدوار کے طور پر جیتے۔
چار سال بعد 2004 کے عام انتخابات میں وہ دیوگڑھ کے پارلیمانی حلقہ سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ یاد رہے کہ دیوگڑھ اب پارلیمانی حلقہ نہیں رہا اور اسے سنبل پور پارلیمانی حلقے میں ضم کر دیا گیا ہے جہاں سے وہ 2024 میں ایم پی منتخب ہوئے تھے۔
تاہم اس کے بعد انھوں نے طویل عرصے تک الیکشن نہیں لڑا۔
اس کے بعد پارٹی کے اندر اپنی اہمیت کی وجہ سے وہ دو بار دوسری ریاستوں سے سینیٹ کے رکن بھی بنے جن میں اپریل 2012 سے اپریل 2018 تک بہار سے اور پھر اپریل 2018 سے اپریل 2024 تک مدھیہ پردیش سے رکن منتخب ہوئے۔
2014 میں نریندر مودی کی قیادت میں مرکز میں بی جے پی کی حکومت آئی تب پردھان کو ریاست کی نمائندگی کا اعزاز ملا اور انھیں سینیٹ سے وزیر مقرر کیا گیا۔
اور 20 سال بعد یعنی 2024 میں انھوں نے دوبارہ اڑیسہ سے الیکشن لڑا اور سمبل پور سے لوک سبھا کے رکن بنے۔
اتکل یونیورسٹی کا انتخاب ہارنے کے باوجود دھرمیندر پردھان کی سیاسی پیش رفت جاری رہی۔ وہ بی جے پی کی طلبہ اور نوجوان تنظیموں میں سرگرم رہے یہاں تک کے وہ آہستہ آہستہ پارٹی میں اہم عہدوں تک پہنچ گئے۔
وہ 1994 میں اے بی وی پی کے سطح پر جنرل سیکریٹری بنے اور 1997 تک اس عہدے پر برقرار رہے۔
بعد میں 2004 سے 2006 تک بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے صدر رہے۔
اس کے بعد انھیں بی جے پی کا قومی سطح پر جنرل سیکریٹری بنایا گیا۔ اس دوران انھوں نے اتر پردیش، بہار اور کرناٹک سمیت کئی ریاستوں میں پارٹی کے انچارج کے طور پر کام کیا اور انتخابی مہم میں اہم کردار ادا کیا۔
دھرمیندر پردھان نے پہلی بار سنہ 2000 میں انتخاب لڑا۔ وہ بی جے ڈی اور بی جے پی اتحاد کے امیدوار کے طور پر پالاہارا اسمبلی حلقے سے کامیاب ہوئے۔
سنہ 2004 کے عام انتخابات میں وہ دیوگڑھ سے لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے۔
بعد میں دیوگڑھ پارلیمانی حلقہ ختم کر کے اسے سمبل پور حلقے میں شامل کر دیا گیا۔ 2024 میں دھرمیندر پردھان سمبل پور سے لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے۔
تاہم اس کے بعد ایک طویل عرصے تک انھوں نے کوئی انتخاب نہیں لڑا۔
پارٹی میں مضبوط حیثیت کی وجہ سے وہ دو بار مختلف ریاستوں سے راجیہ سبھا کے رکن بنے۔
اپریل 2012 سے اپریل 2018 تک وہ بہار سے راجیہ سبھا (ایوان بالا یا سینیٹ) کے رکن رہے جبکہ اپریل 2018 سے اپریل 2024 تک مدھیہ پردیش کی نمائندگی کرتے رہے۔
2014 میں جب نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت مرکز میں اقتدار میں آئی اور دھرمیندر پردھان کو پٹرولیم کا وزیرِ مملکت بنایا گیا اس وقت وہ سینیٹ میں بہار کی نمائندگی کر رہے تھے۔
تقریباً 20 سال بعد 2024 میں، انھوں نے دوبارہ اڑیسہ سے انتخاب لڑا اور سمبل پور سے لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے۔
امت شاہ کا دھرمیندر پردھان کے گھر قیام
دھرمندر پردھان کے ہم جماعت سندھو جیوتی ترپاٹھی کا دعویٰ ہے کہ دھرمیندر پردھان کے مرکزی وزیر صحت جےپی نڈا اور وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ گہرے اور ذاتی تعلقات نے پارٹی اور حکومت میں ان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میرے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں لیکن میں نے کئی معتبر ذرائع سے سنا ہے کہ جب عدالت نے امت شاہ کے خلاف برطرفی کا حکم جاری کیا تو وہ کچھ دنوں کے لیے دھرمیندر کے گھر ٹھہرے تھے۔‘
اگرچہ بعض لوگ پردھان کی کامیابی کو اُن کے ذاتی روابط کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، لیکن سینیئر صحافی روبن بنرجی کے مطابق بی جے ڈی کے صدر اور اڑیسہ کے طویل ترین عرصے تک خدمات انجام دینے والے وزیرِ اعلیٰ نوین پٹنائک (24 سال) نے ابتدا ہی سے اُن کی سیاسی صلاحیتوں کو بھانپ لیا تھا۔
نوین پٹنائک پر اپنی کتاب میں انھوں نے لکھا ہے کہ جب 2000 کے انتخابات میں ووٹوں کی گنتی جاری تھی اور یہ خبریں آئیں کہ دھرمیندر پلالہڈا میں آگے ہیں تو انھوں نے کہا کہ یہ میرے لیے ایک مسئلہ ہے۔
بنرجی کا دعویٰ ہے کہ جب نوین نے یہ تبصرہ کیا وہ کار میں تھے جبکہ بہت سے لوگوں کو اس کہانی کے بارے میں یقین نہیں ہے کیونکہ نوین نہ صرف اڑیسہ بلکہ اس وقت سیاست میں بھی نسبتاً نئے تھے۔
تاہم بی بی سی کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران بنرجی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ بیان بالکل سچ ہے۔
سینئر صحافی روبن بینرجی اڑیسہ میں بی جے پی کی تنظیم سازی میں توسیع کا سہرا بھی دھرمیندر پردھان کو دیتے ہیں۔
ان کے مطابق 2014 میں مرکزی وزیر بننے کے بعد دھرمیندر پردھان ہر ہفتے کے سنیچر اور اتوار اڑیسہ میں گزارتے تھے۔
اس دوران وہ مقامی کارکنوں سے ملاقات کرتے اور پارٹی تنظیم کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر بات کرتے تھے۔
اسی وجہ سے بعض لوگ مذاق میں بی جے پی کو ویک اینڈ پارٹی بھی کہتے تھے۔
2014 سے 2019 تک دھرمیندر پردھان کے او ایس ڈی اور ذاتی سیکریٹری رہنے والے سمبت ترپاٹھی بھی کہتے ہیں کہ ریاست میں پارٹی کے پھیلاؤ میں پردھان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ ریاست بھر میں نچلی سطح پر کام کرنے والے بی جے پی کارکنوں کو ذاتی طور پر اور نام سے جانتے ہیں، اور مرکز میں اپنے عہدے کو استعمال کرتے ہوئے مقامی مسائل حل کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔‘
جب ان کے استعفے کے مطالبے نے جب زور پکڑا تو اس حوالے سے سمبت ترپاٹھی نے کہا تھا کہ ’یہ مطالبہ بالکل جائز نہیں۔ اپوزیشن طلبہ کے جذبات کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔‘
بی جے پی کے رہنماؤں کا بھی تقریباً یہی مؤقف رہا ہے۔
پارٹی کے سینئر رہنما سجن شرما کہتے ہیں کہ ’اپوزیشن ’نیٹ‘ کو بہانہ بنا کر اپنی سیاست چمکانا چاہتی ہے۔ جب امتحان دوبارہ کامیابی سے ہو چکا ہے اور طلبہ اپنی کامیابی کا جشن منا رہے ہیں تو پھر اس تحریک کی وجہ سیاست کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے؟ یہ حکومت کو بدنام کرنے کے لیے اپوزیشن کی سوچی سمجھی کوشش ہے۔‘
پارٹی کے ایک اور سینیئر رہنما گولک مہاپاترا کہتے ہیں کہ ’نیٹ تو صرف ایک بہانہ ہے۔ اپوزیشن کے شور و غل کی اصل وجہ نئی تعلیمی پالیسی ہے، جس نے تعلیمی نظام کو زیادہ مقامی(انڈین) رنگ دیا۔ نصاب میں مغل دور کو اس کا مناسب مقام دیا گیا ہے۔ ‘
ان کے مطابق ’نوین پٹنائک آج وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن شاید وہ بھول گئے ہیں کہ ان کے آخری دورِ حکومت میں یعنی 2019 سے 2024 کے درمیاناڑیسہ میں نو بار سوالیہ پرچے لیک ہوئے تھے۔‘