اکثرکچھ ایسی معلومات تو سب ہی کو حیران کر دیتی ہیں، جس میں کچھ منفرد ہوتا ہے، جو کہ سب کی دلچسپی بہت جلد ہی سمیٹ لیتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایک ایسی ہی دلچسپ خبر کے بارے میں بتائیں گے۔
البانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے ہی خاندان نے اُس وقت سب کی توجہ حاصل کی جب یہ خاندان ایک چھوٹے سے قرآن مجید کی وجہ سے مسلمان ہو گیا۔
البانیہ خاندان کے ایک ممبر ماریوپروشی نامی شخص نے بتایا کہ ہمارے دادا کے دادا اپنے گھر کی تعمیر کے دوران کھدائی کر وا رہے تھے، جب انہیں زمین میں ایک ایسی لاش ملی جو کہ کافی پرانی تھی، مگر مکمل طور پر محفوظ معلوم ہوئی۔
دلچسپ بات یہ بھی تھی کہ اس لاش کے سینے پر ایک چھوٹا سا قرآن مجید موجود تھا، یہ وہی قرآن مجید ہے، جو اب تک سنبھال کر محفوظ مقام پر رکھا گیا ہے۔
یہ چھوٹا سا قرآن مجید 1 سینٹی میٹر موٹا اور 2 سینٹی میٹر چوڑا ہے، جبکہ اس میں موجود آیات اس حد تک باریک ہیں کہ انہیں میگنی فائینگ گلاس کے بغیر دیکھنا ممکن نہیں ہے۔
ماریو پورشی وہ واقعہ آج بھی یاد کرتے ہیں جب کمیونسٹ دور میں ان کے گھر پر خفیہ اطلاع پر چھاپا مارا گیا تھا، اطلاعات تھیں، کہ اس گھر میں قرآن مجید رکھا گیا ہے۔ اس دور میں قرآن مجید گھروں میں رکھنے پر پابندی ہوا کرتھی تھی، تاہم چھوٹے سائز کا ہونے کے سبب ماریوپورشی کے گھرانے نے قرآن مجید محفوظ مقام پر چھپا دیا تھا۔
دوسری جانب ماریو پروشی کی اہلیہ جب بھی قرآن مجید کو اپنے قریب پاتی ہیں، تو اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ اب اس قرآن کی حفاظت کا اہتمام ماروپروشی کے خاندان والے نسل در نسل سے کر رہے ہیں۔
قرآن مجید کے اس نسخے کا کئی لوگوں کی جانب سے ہدیہ بھی رکھا گیا ہے، تاکہ اسے لیا جا سکے، تاہم ماریو پروشی کا گھرانہ اسے اپنے پاس ہی رکھنا چاہتا ہے۔
واضح رہے قرآن مجید کا یہ نسخیہ 19 ویں صدی سے اب تک محفوظ حالت میں موجود ہے۔