غربت اور مجبوری، انسان سے بہت کچھ کروا لیتی ہے۔ یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس سے فرار ممکن نہیں، دنیا بھر میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو پیٹ کی خاطر سخت سے سخت محنت کرنے پر مجبور ہیں۔ آج ہم آپ کو ایسے ہی کچھ غربت سے مجبور بچوں کی زندگی اور کام کے حوالے سے بتائیں گے۔
افغانستان کی ملکی و معاشی حالت سے تو پوری دنیا ہی واقف ہے، وہاں غربت اتنی ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی مشکل مشکل کام کرنے پر مجبور ہیں، ایسے ہی کچھ بچے جلال آباد شاہراہ پر گاڑیوں کی رہنمائی کا کام سر انجام دے رہے ہیں۔
یہ بچے صبح سویرے تیز ترین اور خطرناک شاہراہ پر آجاتے ہیں اور شام ڈھلے گھنٹوں واپس گھر جانے کے لیئے لفٹ کے منتظر رہتے ہیں، نہیں تو کئی کلو میٹر پیدل سفر کر کے گھر پہنچتے ہیں۔
ان میں سے ایک بچے سے جب اسکے حالات کے بارے میں سوال کیا تو اس نے بتایا کہ، "میرے گھر کے حالات اتنے خراب ہیں کہ رزق کی تلاش میں مجھے نکلنا پڑا۔" بچے کی ٹانگ پر لگے چوٹ کے نشان کے حوالے سے اس نے بتایا کہ، "ایک بار ٹریفک کنٹرول کرتے ہوئے ایک تیز رفتار گاڑی میرے پاؤں پر چڑھ گئی، جس سے ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ علاج کے باوجود اس میں شدید درد رہتا ہے، لیکن میں پھر بھی اتنا دور کام پر آنے پر مجبور ہوں۔"
بچوں نے بتایا کہ وہ روزانہ 70 سے 100 افغانی کما لیتے ہیں، جس سے ان کا گزر بسر ہوتا ہے
یہاں صرف ایک بچہ ہی نہیں بلکہ 5 سے 6 بچے یہ کام کر رہے ہیں، ان کے والدین سے جب ان کی پڑھائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ، مہینوں سے ہمارے پاس کام نہیں ہے، مجبوراً بچوں سے مزدوری کروانی پڑ رہی ہے۔ ایسے میں 1 سے 2 وقت کا کھانا مل جائے یہی بہت ہے، پڑھائی کا خرچہ کہا سے پورا کرئے نگے۔
جلال آباد شاہراہ کو خطرناک ترین شاہراہ بھی کہا جاتا ہے، یہاں سے گزرنے والوں کے دل میں ایک خوف سا لگا رہتا ہے، لیکن سلام ہے ان بچوں کی ہمت پر جو یہ مشکل کام سر انجام دے رے ہیں۔