بیٹے کے لیے دلہن بھی ڈھونڈ لی تھی۔۔ شہید فوجی جوان کی آخری گفتگو نے سب کو افسردہ کر دیا، چیٹ وائرل

image

سوشل میڈیا پر اکثر شہید جوانوں کی ایسی کئی خبریں ہیں، جو کہ سب کو افسردہ کر دیتی ہیں، لیکن کچھ ایسی ہوتی ہیں جو کہ سب میں حب الوطنی کا جذبہ بھی بڑھا دیتی ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

سوشل میڈیا پر ایک ایسے ہی فوجی جوان کی شہادت کی خبر نے نہ جہاں صارفین سمیت پاکستانیوں کے دل کو موم کر دیا وہیں، پاک فوج کی اس ملک کے لیے گراں قدر خدمات کو ایک بار پھر سب کی توجہ طلب بھی بنا دیا۔

سال 2021 میں بلوچستان کے علاقے واشک میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی بارودی سرنگ کا نشانہ بن گئی تھی، جس میں وطن کے فوجی جوان بھی شہید ہو گئے تھے، ظاہر ہے ایک ماں کے لیے یہ لمحہ کسی بڑی تکلیف سے کم نہ تھا۔

کیپٹن کاشف بھی اسی کانوائے میں شامل تھے جو کہ ملک کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کر گئے، مگر ان کی آخری گفتگو جو انہوں نے اپنے دوست سے کہی، وہ سب کو افسردہ کر رہی ہے۔

کیپٹن کاشف اپنے دوست کو بتا رہے تھے لیکن کسے معلوم تھا کہ یہ چیٹ آخری چیٹ ثابت ہو گی، دوست کو کہا کہ شکر ہے میں آوران جا رہا ہوں، جس پر دوست نے کہا مطلب تو خوش ہے؟ میں نہیں مانتا۔

جس پر شہید نے محض ایک جملہ کہا کہ شہید ہونا ہے بھائی، انشاء اللہ۔

دوست نے پھر کہا کہ یار بھائی، اتنی دور جانے کی کیا ضرورت ہے؟ ادھر ہی تیری مراد پوری کر لیتے ہیں نا! دراصل دوست شہید کیپٹن کاشف سے مزاق کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ جس پر کاشف نے کہا کہ ادھر تو حادثے میں ہی مرسکتا ہوں۔

شہید کی آخری چیٹ سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اس ملک کے لیے اپنی جان دینے کو ڈر نہیں بلکہ فخر سمجھ رہا تھا۔

دوسری جانب شہید کے والد کہتے ہیں کہ بیٹے سے شہادت سے 4 دن پہلے ملاقات ہوئی تھی، مگر آپ حیران ہو جائیں گے کہ مجھے پہلے ہی سے اندازہ تھا کہ بیٹے کی شہادت ہوگی۔ ہمیں بیٹا حالات سے متعلق کہتا تھا کہ سب نارمل ہے، بس دعاؤں کی درخواست کرتا تھا، بیٹا مشکل سے مشکل آپریشن کرتا تھا، کئی دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا۔

والد کہتے ہیں کہ بیٹے کبھی مجھ سے نہیں کہا مگر امی سے کہا کہ مجھے جتنا یقین تھا کہ میں آرمی میں جاؤں گا اتنا ہی یقین مجھے شہادت کا بھی تھا۔

والدہ کا کہنا تھا جب بھی بیٹے سے شادی کا کہتی تھی تو کہتا تھا کہ آپ کی مرضی ہے جہاں کرنا چاہو کردو۔ ہم نے لڑکی بھی ڈھونڈ لی تھی بیٹے کی شادی کے لیے۔ مزید والدہ نے بتایا کہ بیٹا ہمیشہ اچانک آتا تھا اور جب میں کہتی تھی کہ یوں اچانک کیوں آتے ہو، بتا دیا کرو تو وہ کہتا تھا کہ میں آپ کے چہرے کی خوشی کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ جب کبھی میں بیٹھی ہوتی تھی، تو کہتا تھا کہ آپ کیا سوچ رہی ہوں، کیوں پریشان ہو؟

وہ ہمیشہ ہمارے لیے فکر مند تھا۔ شہادت سے کچھ پہلے ہی ہمیں عجیب سی تشویش آ رہی تھیں۔ میں رات کو سورہ فتح سمیت کئی سورتیں پڑھ کر بیٹے کا تصور کر کے اس پر پھونکتی تھی تب جاکر مجھے سکون ملتا تھا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US