عمران خان نے الجزیرہ کو دیے گئے اپنے حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ ہماری پوری قیادت جیل میں ہے اور 80 فیصد امکانات ہیں کہ منگل یعنی 23 مئی کو جب میں اسلام آباد جاؤں گا تو مجھے دوبارہ گرفتار کر لیا جائے گا، اگر مجھے دوبارہ جیل میں ڈال دیا گیا تو میں ملک میں تشدد نہیں چاہوں گا، نہ میری یہ خواہش ہے۔ لیکن پی ڈی ایم لوگوں کو مشتعل کروا کر احتجاج کرنا چاہتی ہے تاکہ آئندہ آنے والے عام انتخابات میں مجھے روکنے کیلئے اس تشدد کو استعمال کیا جا سکے۔ ہم دو تہائی اکثریت سے الیکشن جیتیں گے۔

عمران خان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے سپہ سالار جنرل عاصم منیر کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جنرل عاصم منیر نے مجھے اہلیہ کی کرپشن کے کوئی ثبوت دکھائے اور نہ ہی میں نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔ پاکستان میں اس وقت قانون کی حکمرانی نہیں ہے۔ مجھے آرمی چیف سے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر اقتدار میں واپس آنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں نے آرمی چیف کے خلاف کوئی کام نہیں کیا لیکن ان کے پاس میرے خلاف کچھ ہے جس کا میں نہیں جانتا۔
عمران خان نے مزید کہا کہ
یہ سب کچھ میری وجہ سے نہیں ہو رہا اور نہ میں نے کچھ کیا ہے۔ سب کچھ صرف ہماری جمہوریت کو ختم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، 10 ہزار سے زیادہ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ میری سینئر قیادت جیل میں ہے۔ مجھ پر قاتلانہ حملے ہوئے اور قتل کی کوشش کی وجہ یہ تھی کہ پی ڈی ایم ضمنی انتخابات میں ہار چکے تھے اور پی ٹی آئی زیادہ مقبول ہو رہی تھی، اس لیے میں جانتا تھا کہ میری جان کو خطرہ ہے اور مجھے اس کے بارے میں کھلے عام بات کرنی پڑی۔
انٹرویو ملاحظہ فرمائیں: