سوشل میڈیا پر ایسی کئی معلومات ہوتی ہیں جو کہ صارفین کی بھی توجہ خوب سمیٹ لیتی ہیں، لیکن کچھ ایسی ہوتی ہیں جو کہ سب کو حیران بھی کر دیتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
امریکہ سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے ہی نوجوان نے اس وقت سب کی توجہ حاصل کی، جب نوجوان کی زندگی کچھ اس طرح بدلی کہ اب وہ ایک نئی زندگی گزر بسر کر رہا ہے۔
امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر برج پورٹ میں پیدا ہونے والا رابرٹ کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے، جہاں مذہبی لگاؤ زیادہ نہیں تھا۔ اگرچہ زندگی میں مشکلات تو بہت تھیں، مگر آگے چل کر رابرٹ کے ساتھ جو ہونے والا تھا وہ شاید رابرٹ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
2001 میں جب رابرٹ کے ساتھ ایک کار حادثہ پیش آیا، تو اس کے بعد کچھ ہوا یوں کہ رابرٹ چلنے پھرنے سے بھی معزور ہو گیا، یہاں تک کہ ڈاکٹرز نے بتایا کہ اب رابرٹ اپنے ہاتھوں سے کچھ کھا نہیں سکتا ہے، اور نہ ہی خود کچھ پی سکتا ہے۔ رابرٹ ایک طرح سے پیرالائز ہو چکا تھا، ظاہر ہے چلنے پھرنے والا نوجوان جب بستر پر آجائے تو اسے خود بھی سمجھ نہیں آتا کہ وہ کیا گیا ہے۔
لیکن رابرٹ نے ہمت نہ ہاری اور خود سے ہی ہمت پکڑ کر کھانے کو چبانے کی پریکٹس شروع کی، شروعات میں تو مشکل ہوئی، تاہم ایک وقت آیا جب اسے ایک دوست ملا، مارک سے رابرٹ کی ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب وہ بیماری سے باہر آ رہا تھا۔
دونوں دوست چونکہ ایک کمرے میں ہوتے تھے، تو اکثر دونوں کے درمیان مذہب سے متعلق بھی بات چیت ہوتی، لیکن 2004 میں مارک کا انتقال ہو گیا، چونکہ مارک کی فیملی مذہبی تھی یہی وجہ تھی کہ مارک کے بعد اس کی بہن نے ایک مذہبی علامت سمجھا جانے والا کراس مارک کو دے دیا، تاکہ وہ مذہب کے قریب ہو سکے، لیکن عیاسئیت کے ساتھ ساتھ رابرٹ نے بدھمت، اسلام، اور دیگر مذاہب کو پڑھنا شروع کر دیا۔
اسلام کو پڑھتے ہوئے رابرٹ کو آقائے دو جہاں ﷺ کی روح پرور اور پُر اثر شخصیت نے کچھ اس طرح متاثر کیا، قرآنی آیات کو سمجھنا اور حدیث نبوی ﷺ کو پڑھنا شروع کر دیا۔
اور پھر حادثے کے 10 سال بعد ایک دن جب رابرٹ نیند پوری کرنے کے لیے لیٹا تو آنکھ لگ گئی، رابرٹ کا کہنا تھا کہ میں سو گیا تھا اور وہ ایک حقیقت معلوم ہو رہی تھی۔
میں صحرا کے بیچ میں کھڑا تھا اور میں نے ایک شخص کو دیکھا، جو کہ 5 اعشاریہ 11 کے قد کے معلوم ہو رہے تھے، اور وہ دیگر لوگوں سے خطاب کر رہے تھے۔
رابرٹ بتاتے ہیں کہ میں ان کے ہاتھوں کی حرکت کو دیکھ رہا تھا، جو کہ خطاب کے دوران موومنت کر رہے تھے۔
میں نے جیسے ہی چہرا انور پر نظر ڈالی، تو مجھے یقین ہو گیا تھا کہ آقائے دو جہاں ﷺ ہیں، انہوں نے اسی عیسائی علامت کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ حضرت عیسیٰ کو دیکھا، جو ہماری طرح ہی کھاتے ہیں، چلتے ہیں، وہ ایک انسان ہیں، نہ کہ خدا۔
اس روح پرور منظر کو دیکھنے کے بعد فورا رابرٹ اٹھ گیا اور حالت کچھ ایسی تھی کہ اسے کچھ ہوش ہی نہیں تھا۔ اسی وقت رابرٹ نے چونکہ اسلام کو پڑھتے ہوئے کلمہ شہادت کا بھی علم ہو گیا تھا، تو فورا کلمہ پڑھ لیا، رابرٹ نے نہ کبھی مسجد کو دیکھا تھا اور نہ ہی کسی مسلمان سے بات چیت کی تھی۔
مگر صرف ایک خواب کی وجہس ے رابرٹ نے اسلام قبول کیا، اور آج رابرٹ کئی امریکی مسلمانوں کے لیے مشعل راہ بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔