دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں جو انسانیت یا بھائی چارے کا سبق نہ دے۔ ہر دین ایک دوسرے کی عزت کرنا، ایک دوسرے کا لحاظ کرنا اور ایک دوسرے کی عبادت کی عزت کرنا سکھاتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں مذہبی فسادات کے پھیلنے کی وجہ مذہب کے پیروکار ہیں، مذہب نہیں ہے۔ بھارت کے حوالے سے یہ بات سب سے زیادہ مشہور ہے کہ وہاں مذہبی آذادی نہیں ہے اور یہ بات بالکل حیققت ہے ہم نے حال اور ماضی میں کئی مرتبہ دیکھا ہے مگر بھارت سے ہی ایک سکھ بھائی کی تصویر سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے ایک سکھ مالک نے اپنے مسلمان ملازم کو دکان میں ہی نماز پڑھنے کی اجازت بھی دی اور اس کا احترام بھی کیا۔
اس وائرل تصویر سے متعلق بتایا جاتا ہے کہ سکھ مالک نے اپنے مسلمان ملازم کو دکان کے اندر ہی نماز پڑھنے کی اجازت دے دی کیونکہ اس کی نماز قضاء ہو رہی تھی اور جلد ہی مسجد تک پہنچنا یا اس کے گھر تک پہنچنا آسان نہ تھا لہٰذا مالک نے اسے وہیں پڑھنے کی اجازت دی۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کی نماز کا خیال بھی رکھا، احترام بھی کیا اور ساتھ ہی سامنے رکھی ہوئی اپنی کرسی کو سائیڈ پر رکھ دیا، اس پر بیٹھے نہیں کہ کہیں نماز کے سامنے نہ آ جاؤں۔ اس تصویر نے ہزاروں لوگوں کے دل جیت لیے۔