نیند کی 20 گولیاں کھائیں اور سڑک پر بیہوش پڑا ملا ۔۔ جوانی میں عامر لیاقت کے ساتھ کیا ہوا تھا جو انہوں نے خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی؟

image

عامر لیاقت کو ہم سے بچھڑے 1 سال گزر گیا۔ آج بھی ان کی یوں اچانک موت کا یقین کرنے سے حلقہ احباب قاصر ہے کہ یہ کیسے ہوا ۔۔؟ لوگوں کو ہنسانے والا، دینِ اسلام کی تعلیم دینے والا، مفسر، مبلغ دنیا سے یوں جُدا ہوگیا کہ اب اس کی قبر پر لوگوں کا رش لگا رہتا ہے ۔۔ قابلِ افسوس ہے وہ تنقید جس کا سامنا عامر لیاقت نے کیا اور کسی کو جواب دیے بغیر، سچائی ظاہر کیے بغیر دنیا سے رخصت ہوگیا، کیا قصور تھا اس کا شادیاں کرنا یا پھر شو میں ناگن ڈانس کرنا ۔۔۔ مگر آج اگر کچھ زندہ ہے تو وہ ان کی یادیں، ان کی باتیں ۔۔

عامر لیاقت حسین کے قریبی دوست ان کی جوانی کا قصہ سناتے ہوئے آبدیدہ ہیں۔ بی بی سی اردو کے مطابق غالباً اپریل یا مئی 2002 میں عامر لیاقت حسین نے ایک مرتبہ خودکشی کی کوشش کی تھی۔ صحافی دوست بتاتے ہیں کہ ایک رات مجھے فون آیا کہ فوری آغآ خان ہسپتال پہنچو، میں جوں ہی گیا تو بشریٰ اقبال کھڑی ہوئی تھیں افسردہ میں نے پوچھا کیا ہوا عامر کہاں تو وہ سہم گئیں، ڈاکٹروں سے معلوم ہوا کہ عامر نے نیند کی 20 گولیاں کھالیں ہیں۔ لیکن ہم نے فوری طور پر معدہ واش کرکے ادویات کا اثر زائل کردیا ہے مگر نہ جانے کب ہوش آئے یہ کچھ کہا نہیں جا سکتا چونکہ یہ خودکشی کا اقدام تھا لہٰذا پولیس کیس بن چکا تھا لیکن ہم دوستوں نے فوری طور پر عامر کو اسی نیم بیہوشی کی حالت میں اٹھایا اور گھر لے گئے تاکہ پولیس تک معاملات نہ بڑھیں اور معاملہ رفع دفع ہوسکے اور اسی اثناء میں ہم نے عامر کو گھر چھوڑ دیا، پھر کبھی اس پر کوئی بات نہ کی گئی۔

لیکن جب تفصیلات معلوم ہوئیں تو پتہ چلا کہ والدہ کی مرضی کے خلاف شادی کر لینے والے عامر لیاقت حسین کی اپنی والدہ بیگم محمودہ سلطانہ سے کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی تھی جس کے بعد انتہائی دلبرداشتہ عامر لیاقت حسین نے خواب آور دوا کی 20 گولیاں کھا کر خودکُشی کی کوشش کی تھی۔ وہ دوا کھاتے ہی گھر سے نکل آئے تھے اور نہ جانے کیسے قریب واقع پاکستان ٹیلی ویژن سینٹر کراچی سٹیشن کے قریب سڑک پر کسی ٹیکسی ڈرائیور کو بے ہوش حالت میں ملے تھے، جو جان بچانے اور انھیں طبّی امداد بہم پہنچانے کی غرض سے آغا خان ہسپتال لے آیا تھا اور وہاں طبّی امداد کے دوران ڈاکٹرز کا اندازہ ہوا کہ دوا کی اتنی زیادہ مقدار کھانے سے ایسا ہوا اور یہ اقدامِ خودکُشی ہی ہو سکتا ہے۔ بہرحال اس کے بعد ایک بہترین مبلغ کے طور پر عامر لیاقت ابھر آئے۔ لیکن نہ جانے کیسے ایونٹ فُل لائف گزارنے والے کی زندگی میں شوز کی رنگینیوں اور ذاتی معاملات کی منفی شبیہہ پڑگئی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US